عربی ہفتم دورہ حدیث شریف

درس مسلم جلد ١
درس مسلم جلد ١
درس مسلم جلد ٢
درس مسلم جلد ٢
امام ابو حنیفہؒ کے اصول حدیث
امام ابو حنیفہؒ کے اصول حدیث
سراج نبوی بشرح شمائل ترمذی
سراج نبوی بشرح شمائل ترمذی
انعام الباری فی شرح اشعار البخاری
انعام الباری فی شرح اشعار البخاری
آسان اصطلاحات حدیث شرح تیسیر مصطلح الحدیث
آسان اصطلاحات حدیث شرح تیسیر مصطلح الحدیث
سنن ابو داود مترجم مع مختصر شرح جلد ١
سنن ابو داود مترجم مع مختصر شرح جلد ١
سنن ابو داود مترجم مع مختصر شرح جلد ٢
سنن ابو داود مترجم مع مختصر شرح جلد ٢
سنن ابو داود مترجم مع مختصر شرح جلد ٣
سنن ابو داود مترجم مع مختصر شرح جلد ٣

چھوٹے بچوں سے جھوٹ بولنا

چھوٹے بچوں سے جھوٹ بولنا

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔ چناں چہ حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مکان میں تشریف فرما تھے، میری والدہ نے (میری جانب بند مٹھی بڑھا کر ) کہا: یہاں آؤ! میں تمہیں دوں گی ( جیسے مائیں بچے کو پاس بلانے کے لئے ایسا کرتی ہیں ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ سے ارشاد فرمایا: ”تمہارا اسے کیا دینے کا ارادہ تھا؟“‘ والدہ نے جواب دیا کہ میں اسے کھجور دینا چاہتی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ. (الترغيب والترهيب (۳۷۰/۳) اگر تم اسے کوئی چیز نہ دیتیں تو تمہارے نامۂ اعمال میں ایک جھوٹ لکھا جاتا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بہت سی ایسی باتیں جنہیں معاشرہ میں جھوٹ نہیں سمجھا جاتا ہے، ان پر بھی جھوٹ کا گناہ ہو سکتا ہے۔ بچوں کو جھوٹی تسلیاں دینا اور جھوٹے وعدے کرنا عام طور پر ہر جگہ رائج ہے، اور اسے جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ حالاں کہ درج بالا ارشاد نبوی کے مطابق یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے، جس سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہئے ۔(رحمن کے خاص بندے/ ص:۳۳۶)

Image 1

Whats New

Naats