حدیث الرسول ﷺ

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه(مشکوٰۃ المصابیح:۳۲۵۹)
ترجمہ : حضرت حکیم بن معاویہ قشیریؒ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم‌میں سے کسی کی بیوی کا اس پر کیا حق ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: کہ جب تم کھاؤ ، تو اس کو بھی کھلاؤ ، جب پہنو تو اس کو بھی پہناؤ ، اور چہرے پر مت مارو، اور اس کو برا مت کہو، اور گھر کے علاوہ میں علاحدگی مت اختیار کرو ۔ (احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ )(الرفيق الفصیح)

ایک مقبول ولی کی پیشین گوئی

ایک مقبول ولی کی پیشین گوئی

حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوری جو بڑے صاحب کشف و کرامات تھے، ان کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے کہ پنجاب سے حکیم نورالدین بسلسلہ معالجہ حضرت شاہ صاحب کے پاس آئے ... حضرت نے ان سے فرمایا کہ حکیم صاحب پنجاب میں کوئی جگہ قادیان ہے، وہاں سے کسی نے نبوت کا دعوی تو نہیں کیا ؟ حکیم صاحب نے کہا کہ کسی نے نہیں کیا ... حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ وہاں سے ایک شخص نبوت کا دعوی کرے گا اور لوح محفوظ میں آپ کو اس کا مصاحب لکھا ہے، آپ کے اندر ایک مرض ہے ( بحث کرنے اور الجھنے کا یہ مرض آپ کو وہاں لے جائے گا اور آپ مبتلا ہوں گے۔ ہم تو اس وقت نہ ہوں گے۔ مگر آپ کو باذن الہی) پہلے سے مطلع کیے دیتے ہیں ... چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ حکیم صاحب اس سے مناظرہ کرنے کے لئے گئے اور اس کے دام میں پھنس گئے اور اس پر ایمان لے آئے اور پھر اس کے خلیفہ اول ہوئے ... نعوذ باللہ ) (آپ بیتی از شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ ) ____📝📝📝____ کتاب : قابلیت اور مقبولیت ۔ صفحہ نمبر: ۱۰۲۔ صاحب کتاب : مولانا محمد اسحق ملتانی۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

Image 1

Naats