محقق مسئلہ

نمازِ عیدین کا مسنون طریقہ ۔ عید کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اولاً یہ نیت کریں کہ میں قبلہ رو ہو کر اس امام کے پیچھے دو رکعت واجب نماز ادا کر رہا ہوں ، جس میں چھ زائد واجب تکبیریں بھی ہیں، دل سے مذکورہ نیت کرنے کے بعد تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھ لیں ، ثنا پڑھیں ، اس کے بعد دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے معمولی فصل سے تین مرتبہ تکبیر کہیں، پہلی دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑتے رہیں اور تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھیں اس کے بعد فاتحہ اور سورۃ ملائیں، پھر رکوع سجدہ کر کے رکعت مکمل کر لیں۔ دوسری رکعت میں اولاً فاتحہ و سورۃ پڑھنے کے بعد رکوع میں نہ جائیں بلکہ تین مرتبہ ہاتھ اٹھا کر تین تکبیریں کہیں اور درمیان میں ہاتھ نہ باندھیں ، اس کے بعد بغیر ہاتھ اٹھائے تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جائیں اور بقیہ نماز حسب معمول پوری کریں ۔(کتاب النوازل/ج:۵/ص:۳۲۰)

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مدرسین کو چاہئے کہ ہر طالب علم کو پورا عربی پڑھانا ضروری نہ سمجھیں ، جس کے اندر مناسبت دیکھیں ، اور فہم سلیم پائیں ، اس کو سب کتابیں پڑھادیں ، اور جس کو مناسبت نہ ہو ، یا فہم سلیم نہ ہو ، اس کو بقدر ضرورت مسائل پڑھا کر کہہ دیں کہ جاؤ دنیا کے دھندے میں لگو ، تجارت وحرفت کرو ، کیوں کہ ہر شخص مقتدا بننے کے لائق نہیں ہوتا ، بعضے نالائق بھی ہوتے ہیں ، ایسوں کو فارغ التحصیل بنا کر مقتدا بنا دینا خیانت ہے ۔ ایسے لوگوں کے لئے ایک مقدار معین کر لینا چاہیے کہ اس سے آگے ان کو نہ پڑھایا جائے ، اور وہ مقدار ایسی ہو جو دین کے ضروری مسائل جاننے کے لئے کافی ہو ۔ ( تعمیم التعلیم ، التبلیغ ۔ ص ۲۱۲ ۔ ص ۱۶۱ ۔ ج۲۱ )

Image 1

Naats