دارالعلوم دیوبند کے چند محترم و مؤقر اساتذۂ کرام کی تجارتی سرگرمیاں حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی دامت برکاتہم (دارالمعارف النعمانیہ) حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب (شیخ الاسلام اکیڈمی اور محلہ خانقاہ دیوبند میں واقع مکان میں بجانب سڑک کرائے پر کئی بڑی بڑی دکانیں وغیرہ) حضرت مولانا مفتی امین پالن پوری (الامین کتابستان) حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی صاحب (مکتبہ نعمت) حضرت مولانا مفتی محمد سلمان منصور پوری (مکتبہ التذکیر) حضرت مولانا محمد ساجد ہردوئی (دارالمنار) حضرت مولانا مفتی محمد نسیم بارہ بنکوی (مکتبہ دعوت القرآن) حضرت مولانا مجیب اللہ گونڈوی (امان بکڈپو) حضرت مولانا محمد حسین ہریدواری (مکتبہ الاطہر) حضرت مولانا عارف جمیل مبارک پوری (مکتبہ علمیہ) حضرت مولانا مفتی اشرف عباس صاحب (مکتبہ ابن عباس) حضرت مولانا مفتی اشتیاق صاحب (مکتبہ ادیب) حضرت مولانا مصلح الدین صاحب (ریان بک ڈپو) حضرت مولانا کلیم الدین کٹکی (مکتبہ الفاروق) حضرت مولانا مفتی عبد اللہ معروفی (مکتبہ عثمانیہ) حضرت مولانا محمد علی بجنوری (ادارہ الصدق) حضرت مولانا محمد ارشد معروفی (ثنا پبلیکیشنز) ماضی قریب میں وفات پانے والے چند اکابر محدث کبیر حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری (مکتبہ حجاز) ادیب اریب حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی (ادارہ علم و ادب) حضرت مولانا محمد جمال بلند شہری (مکتبہ جمال) شارح ھدایہ حضرت مولانا جمیل احمد سکروڈوی (مکتبہ البلاغ) اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اساتذہ کرام کی دینی خدمات قبول فرمائے، ان کی اشاعتی و تجارتی سرگرمیوں میں برکت عطا فرمائے اور علماء و ائمہ حضرات کو حسب استطاعت و حسب موقع انھیں کے نقش قدم پر چلا کر دینی خدمت کے ساتھ معاشی استحکام عطا فرمائے. آمین

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اسرائیلی مظالم کی ایک جھلک:

اسرائیلی مظالم کی ایک جھلک:

اقوام متحدہ کے ۱۹۴۸ء کے منظور کردہ نقشے کے مطابق نا جائز ریاست اسرائیل کا رقبہ پانچ ہزارتین سو (۵،۳۰۰) مربع میل تھا۔ لیکن اسرائیل نے رفتہ رفتہ تئیس ہزار (۲۳٬۰۰۰) مربع میل پر قبضہ کر لیا۔ اور اس پر بس نہیں عظیم تر اسرائیل کے نقشے میں مصر ، عراق ، شام ، سعودیہ عرب حتی کہ مدینہ منورہ، خیبر ، تک کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ یہودیوں کے فلسطین میں ظلم و تشدد کے پیش نظر مظلوم فلسطینی عوام نے اپنے دفاع کے لیے تنظیمیں تشکیل دیں۔ (۱) فتح تنظیم (۱۹۵۷ء) (۲) - تنظیم آزادی فلسطین (۱۹۶۴ء)(۳)-حماس [۱۹۸۷ء] سابقہ دو تنظیموں کی کارکردگی سے مایوسی کے بعد شیخ احمد یاسین نے ۱۹۸۷ء میں حماس کی بنیاد رکھی۔ ۲۰۰۴ء میں شیخ احمد یاسین کو شہید کر دیا گیا۔ ۲۰۰۷ء میں حماس نے فلسطینی عوام کا بھر پور اعتماد حاصل کر کے غزہ کے انتخابات میں کامیابی پائی۔ تب سے اب تک اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ: ”غزہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے۔“ یہود/اسرائیلی جب چاہتے ہیں اہل غزہ کا پانی بجلی سوئی گیس، یہاں تک کہ خوراک ، ادویات تک بند کر دیتے ہیں۔ غزہ کے ایک جانب سمندر، ایک طرف مصر اور ایک طرف خود اسرائیل ہے۔ سمندر بھی اسرائیلی قبضے میں ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اسرائیل نے پچاسی فیصد پینے کا پانی اپنے قبضے میں کیا ہوا ہے اور صرف پندرہ فیصد پانی فلسطینی مسلمانوں کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔ وہ بھی جب چاہتا ہے بند کر دیتا ہے۔ اس وقت تقریباً ۸۰ لاکھ یہودی ظلماً فلسطین پر قابض ہیں، جبکہ ۸۰ لاکھ ہی فلسطینی ہجرت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، جن میں ۴۵ لاکھ سے زائد تعداد مہاجر کیمپوں میں مقیم ہے۔ ۲۰۱۸ ء کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند سال سے اسرائیل اوسطاً ۲۸۵/فلسطینیوں کو بلا وجہ سالانہ شہید کرتا ہے۔ اور یہ عام ایام کی بات ہے، جن ایام میں فضائی بمباری جاری ہو اُن دنوں شہدا کی تعداد یومیہ بیسیوں اور سیکڑوں میں ہوتی ہے۔ اکتوبر ۲۰۰۱ ء تا جنوری ۲۰۰۵ء تک ساڑھے چھ سو سے زائد فلسطینیوں کے گھر بلا وجہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیئے گئے ۔ میں تبدیل کر دیئے گئے ۔ سن ۲۰۰۰ ء تا سن ۲۰۰۶ ء کی رپورٹس کے مطابق خواتین کو اسرائیلی چوکیوں پر ایسے وقت میں قصداً روکا گیا، جب ولادت کا وقت قریب تھا، اور ۶۸ خواتین نے چیک پوسٹوں پر بچے جنم دیئے ۔ جن میں سے ۱۴ خواتین اُسی موقع پر شہید ہوئیں ۔ سن ۱۹۶۸ء کی لڑائی میں ساڑھے تین لاکھ فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔