ٹرمپ کا بڑا اعلان: دنیا بھر پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے دنیا کے تمام ممالک پر اضافی 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ آج ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے اس فیصلے کو نافذ کریں گے۔ یہ نیا ٹیکس پہلے سے عائد شدہ ٹیرف سے الگ ہوگا، یعنی اب تمام ممالک کو بنیادی ٹیرف کے ساتھ اضافی ٹیرف بھی ادا کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیا قدم امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد صدر ٹرمپ نے مزید ٹیرف لگانے کا فیصلہ کیا۔ عدالتی فیصلے کے فوراً بعد بلائی گئی پریس کانفرنس میں انہوں نے 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کے بعد پہلے سے نافذ ٹیرف کے اوپر مزید ٹیرف لاگو ہوگا۔ 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کے تحت اختیار صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ آئین کی دفعہ 122 اور Trade Act of 1974 کے تحت 10 فیصد اضافی ٹیکس نافذ کریں گے۔ اس قانون کے مطابق اگر امریکہ کو تجارتی خسارے یا معاشی بحران کا سامنا ہو تو صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر ٹیرف عائد کر سکیں۔ یہ ٹیرف زیادہ سے زیادہ 150 دن تک نافذ رہ سکتا ہے۔ اس مدت کے دوران اگر حالات بہتر ہو جائیں تو صدر جائزہ لے کر آئندہ کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ 1971 میں بھی عائد ہوا تھا ٹیرف صدر ٹرمپ نے یاد دلایا کہ 55 برس قبل 1971 میں بھی اسی نوعیت کا اقدام کیا گیا تھا۔ اس وقت کے صدر Richard Nixon نے تجارتی عدم توازن کے باعث 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا تھا۔ امریکہ کو برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث خسارے کا سامنا تھا، جس سے ڈالر پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔ اس اقدام سے خسارہ کم ہوا، اور بعد میں 1974 میں اسی طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹریڈ ایکٹ نافذ کیا گیا۔ اپریل 2025 سے جاری ٹیرف پالیسی واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے "امریکہ فرسٹ" پالیسی کے تحت اپریل 2025 میں دنیا کے مختلف ممالک پر 90 دن کے لیے ٹیرف عائد کیا تھا۔ اس کے بعد جولائی 2025 میں دوبارہ مختلف ممالک پر کم یا زیادہ شرح سے ٹیرف نافذ کیے گئے۔ ٹیرف میں کمی کے بدلے انہوں نے مختلف ممالک کے ساتھ اپنی شرائط کے مطابق تجارتی معاہدے کیے۔ صدر کی جانب سے عائد انہی ٹیرف کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا، جس کے بعد حالیہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔