عرب میں ایک عورت تھی اس کا نام اُم جعفر تھا۔ انتہائی سخی تھی۔ لوگوں میں ایسے تقسیم کرتی تھی کہ دائیں کو بائیں ہاتھ کا پتا نہ چلے۔ کچھ دنوں سے وہ ایک راستے سے گزرنے لگی۔ اس راستے پر دو اندھے بیٹھے ہوتے۔ یہ دونوں صدائیں لگاتے۔ ایک کی صدا ہوتی۔ الٰہی! مجھے اپنے فضل و کرم سے روزی عطا کر۔ دوسرا اندھا کہتا۔ یا رب مجھے ام جعفر کا بچا ہوا عطا کر۔ ام جعفر ان دونوں کی صدائیں سنتی اور دونوں کو عطا کرتی۔ جو شخص الله کا فضل طلب کر رہا تھا، اسے دو درہم دیتی جبکہ (ام جعفر) کے فضل کے طلبگار کو ایک بھنی ہوئی مرغی عطا کرتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسے مرغی ملتی، وہ اپنی مرغی دوسرے اندھے کو دو درہم میں بیچ دیتا۔ کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک دن ام جعفر اس اندھے کے پاس آئی جو ام جعفر کا فضل طلب کرتا تھا اور اس سے سوال کرتا تھا اور اس سے سوال کیا۔ کیا تمہیں سو دینار ملے ہیں؟ اندھا حیران ہو گیا۔ اس نے کہا۔ نہیں! مجھے صرف ایک بھنی ہوئی مرغی ملتی تھی جو میں دو درہم میں بیچ دیتا تھا۔ ام جعفر نے کہا۔ جو الله کا فضل طلب کر رہا تھا، میں اسے دو درہم دیتی اور تمہیں بھنی ہوئی مرغی میں دس دینار ڈال کر دیتی رہی۔ اندھے نے اپنا سر پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ چیخنے اور چلانے لگا۔ ہائے میری کمبختی، کاش میں ایسا نہ کرتا۔ میں مارا گیا۔ ام جعفر نے کہا۔ یقینا اللہ کا فضل طلب کرنے والا کامیاب ہے اور انسانوں کے فضل کا طلبگار محروم ہے۔ منقول

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک نوجوان کی استقامت

ایک نوجوان کی استقامت

سمرقند کے اسی سفر میں ایک عالم ایک نوجوان کو اس عاجز(شیخ پیر ذو الفقار احمد نقشبندی) سے ملانے کے لیے لائے اور بتایا کہ یہ وہ خوش نصیب نو جوان ہے جو روسی انقلاب کے زمانے میں پانچ مرتبہ اذان دے کر کھلے عام نمازیں پڑھتا تھا۔ یہ سن کر اس عاجز کو حیرت ہوئی اور پوچھا: وہ کیسے؟ اس نوجوان نے اپنی پیٹھ پر سے کپڑا ہٹا دیا۔ ہم نے دیکھا تو اس کی پیٹھ کے ایک ایک انچ جگہ پر زخموں کے نشانات موجود تھے ۔ اس عاجز نے پوچھا: یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے اپنی داستان بیان کرنا شروع کی ۔ وہ کہنے لگا: جب میں نے پہلی مرتبہ اذان دی تو پولیس والے مجھے پکڑ کر لے گئے اور خوب مارا۔ میں جان بوجھ کر اس طرح بن گیا جس طرح کوئی پاگل ہوتا ہے۔ وہ جتنا زیادہ مارتے میں اتنا ہی زیادہ ہنستا ۔ ایک وقت میں کئی کئی پولیس والے مارتے مارتے تھک جاتے ، مگر میں اللہ کے نام پر مار کھاتے کھاتے نہ تھکتا ۔ مجھے بجلی کے جھٹکے بھی لگائے گئے ، مگر میں نے برداشت کر لیے۔ مجھے کئی کئی گھنٹے برف پر لٹایا گیا، مجھے پوری پوری رات الٹا لٹکایا گیا ، مجھے گرم چیزوں سے داغا گیا، میرے ناخن کھینچے گئے، مگر میں اس طرح محسوس کرواتا جیسے کوئی پاگل ہوتا ہے۔ میں جان بوجھ کر پاگلوں والی حرکتیں کرتا تھا۔ پولیس والوں نے ایک سال میری پٹائی کرنے کے بعد مجھے پاگل خانے بھجوا دیا۔ وہاں بھی میں نے ایک سال اسی طرح گزارا جتی کہ ڈاکٹر نے لکھ کر دے دیا کہ یہ شخص پاگل ہے، اس کا ذہنی توازن خراب ہے، یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا ، یہ اپنے آپ میں ہی مگن رہتا ہے۔ لہذا اب اس کو دوباره گرفتار نہ کیا جائے ۔ چنانچہ اس ڈاکٹر کی رپورٹ پر مجھے آزاد کر دیا گیا۔ جب میں باہر آیا تو میں نے ایک جگہ پر چھوٹی سی مسجد نما جگہ بنائی ، میں وہیں دن میں پانچ مرتبہ اذانیں دیتا اور پانچ نمازیں کھلے عام پڑھا کرتا تھا۔ اس عاجز نے بڑھ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا: اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں ہوتی ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد یہ عاجز اس نوجوان کے چہرے کو بار بار دیکھتا اور اس کی ثابت قدمی پر رشک کرتا رہا۔ ازل سے رچ گئی ہے سر بلندی اپنی فطرت میں ہمیں کٹنا تو آتا ہے مگر جھکنا نہیں آتا (کتاب : ایمان و یقین کے تقاضے۔ صفحہ نمبر : ۱۴۹ - ۱۵۰ از افادات: حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی۔ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔)