پاسپورٹ بنانے کا مکمل طریقہ آسان الفاظ میں عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاسپورٹ بنوانا بہت مشکل کام ہے، خاص کر پاسپورٹ آفس کے بارے میں لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہاں بہت مشکل کام ہوتا ہے؟وہاں ہمیں کچھ سمجھ میں آئے گا یا نہیں؟وہاں کیا ہوگا؟ وغیرہ۔۔۔لیکن حقیقت میں اگر آپ کے ڈاکومنٹ ٹھیک ہیں تو پاسپورٹ بنوانا بہت آسان کام ہے،اس میں صرف ۳ کام کرنے ہوتے ہیں، ❶ اپوئمنٹ لینا ❷ پاسپورٹ آفس میں حاضری ❸ پولس انکوائری۔۔۔یہ تین کام مکمل کر لیے جائیں تو چند دنوں میں پاسپورٹ آپ کے گھر آ جاتی ہے۔ ❶ اپوئمنٹ کیسے لی جاتی ہے؟ سب سے پہلا کام آن لائن اپوئمنٹ لینے کا ہے،اپوئمنٹ خود بھی لے سکتے ہیں، اگر خود سے نہ لے سکے تو کسی ایجنٹ کے ذریعہ لے لے، اب تو پاسپورٹ کے آفیشل ایپ mpassport کے ذریعہ اینڈرائد موبائل سے بھی اپوئمنٹ لینا آسان ہو گیا ہے، اپوئمنٹ لینے کے لیے ایک ایپلیکیشن فارم پر کرنا ہوتا ہے، اور فارم پر کرنے کے بعد کچھ رقم جمع کروانی ہوتی ہے، اگر 36 صفحات والا پاسپورٹ بنوانا ہو تو 1500 اور 60 صفحات والا ہو تو 2000 روپیے جمع کرنے ہوتے ہیں۔ ایپلیکیشن فارم کے ساتھ ڈاکومنٹ بھی لگانے ہوتے ہیں، اگر آپ کے پاس آدھار کارڈ ہے تو صرف آدھار کارڈ ہی لگانا چاہیے، اس کے ساتھ پان کارڈ،وغیرہ مختلف ڈاکومنٹ نہیں لگانے چاہیے کیوں کہ جتنے زیادہ ڈاکومنٹ ہوں گے ان کے ویریفکیشن میں اتنی ہی زیادہ دیر لگے گی، اور ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جیسے ہی آپ ایپلیکیشن فارم پر کرتے ہیں اور رقم جمع کر دیتے ہیں، تو آپ کو اپوئمنٹ نمبر، تاریخ، وقت سب مل جاتا ہے، اسے آپ پرنٹ کروا کے اپنے پاس رکھ لیں، پھر اسی لکھی ہوئی تاریخ اور وقت پر پاسپورٹ آفس پہونچ جائیں۔ ❷ پاسپورٹ آفس میں کیا ہوتا ہے؟ اپوئمنٹ میں جو وقت دیا ہو اس سے کم از کم پندرہ منٹ پہلے آپ کو پاسپورٹ آفس پہونچ جانا چاہیے، مثلا اگر آپ کو 45: 10 کا وقت دیا گیا ہو تو 30: 10 کو پہونچ جانا چاہیے،کیوں کہ مقررہ وقت سے پندرہ منٹ پہلے انٹری کے لیے بلایا جاتا ہے، جیسا کہ میرا یہی وقت تھا تو30: 10 کو ہمیں بلایا گیا تھا، یہاں پر آپ کا وہ پرنٹ جس میں اپوئمنٹ نمبر وغیرہ لکھا ہوا ہے، اسے دیکھ کر آپ کو انٹری دے دی جائے گی۔اب جیسے ہی آپ اندر جائیں گے تو اندر تین چار لائنیں نظر آئیں گی، ان میں چھوٹے بچوں اور 60 سال سے زائد عمر والوں کے لیے ایک مستقل لائن ہوتی ہے، ان کو اسی لائن میں جانا ہے،یہ ان کے لیے خاص ہے ان کے علاوہ کوئی اس میں نہیں جا سکتا، ہاں اگر آپ اپنے والد وغیرہ کے ساتھ جاتے ہیں جن کی عمر 60 سے زیادہ ہے تو آپ بھی انہی کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں چاہے آپ کی عمر 60 سے کم ہو۔یہاں پر آپ سے وہ ڈاکومنٹ مانگے جائیں گے جو آپ نے اپوئمنٹ لیتے وقت لگائے ہیں۔۔۔۔۔میں نے صرف آدھار کارڈ لگایا تھا تو صرف آدھار کارڈ ہی مانگا تھا۔۔۔۔اسے چیک کیا جائے گا، اگر کوئی غلطی نہیں ہے، سب درست ہے تو آپ کو ایک ٹوکن نمبر دیا جائے گا، نمبر اس طرح ہوتا ہے N-22 وغیرہ، اسی ٹوکن نمبر پر لکھا ہوگا کہ آگے آپ کو کیا کرنا ہے؟ مثلا۔۔↓ کاؤنٹر A→ B→ C→ Exit یعنی آپ کو پہلے کاؤنٹر A پھر B پھر C پر جانا ہے، اور پھر باہر نکل جانا ہے۔یہ جو مختلف کاؤنٹر پر جانا ہوتا ہے اس کے لیے وہاں پر بڑی بڑی سکرین موجود ہوتی ہیں، اس پر آپ کا ٹوکن نمبر اور اس کے سامنے جس کاؤنٹر پر آپ کو جانا ہے اس کا نمبر لکھا ہوا آتا ہے، مثلا آپ کا نمبر N-22 ہے تو سکرین پر لکھا ہوا آئے گا۔۔N-22---A-2 وغیرہ.... یعنی آپ کو کاؤنٹر A-2 پر جانا ہے، یاد رہے کہ یہ جو A. B. C نام کے مختلف کاؤنٹر ہوتے ہیں وہ ایک سے زائد ہوتے ہیں۔۔مثلا۔۔A-1 A-2 A-3 وغیرہ اسی طرح B اور C میں بھی ہوتا ہے، اس لیے آپ کو دھیان سے نمبر دیکھ کر اسی نمبر پر جانا ہے جو سکرین پر نظر آ رہا ہے۔ بہر حال ٹوکن نمبر لے کر آپ کو آگے جانا ہے وہاں چند کرسیاں ہوں گی، اور سامنے ہی بڑی سکرین ہوگی، ان پر بیٹھ کر اپنے نمبر کا انتظار کرنا ہے،تھوڑی دیر میں سکرین پر آپ کا نمبر ظاہر ہوگا، جیسے ہی اس پر آپ کا نمبر ظاہر ہو آپ کو اس کے سامنے لکھے ہوئے کاؤنٹر پر پہونچ جانا ہے، مثلا لکھا ہوا آئے N-22۔۔۔۔ A-2 تو آپ کو A-2 پر جانا ہے۔کاؤنٹر A پر آدھار کارڈ کو سکین کیا جائے گا، فرنگر پرنٹ لی جائے گی، اور فوٹو کلک کیا جائے گا۔۔۔ یاد رہے یہاں جو فوٹو کلک کیا جائے گا وہی فوٹو پاسپورٹ پر آئے گا اس لیے یہ فوٹو اچھے طریقے سے کلک کرائیں ۔۔۔یہاں پر آپ کو پاسپورٹ کَوَر خریدنے کو کہا جا سکتا ہے، یہ اختیاری چیز ہے آپ چاہے تو خرید سکتے ہیں ورنہ منع بھی کر سکتے ہیں، میں نے یہ خریدا تھا ۳۵۰ اس کی قیمت تھی لیکن ۳۵۰ جیسا نہیں تھا😢 اس لیے میری رائے ہے کہ اس کور کو نہ خریدیں ۳۵۰ کا ریچارج کر لیں، دو تین مہینے روزانہ ۱ جی بی ملتی رہیں گی😊 یہاں پر آپ سے ایک اور ریکویسٹ کی جا سکتی ہے کہ آپ ایس ایم ایس سروس شروع کروانا چاہتے ہیں؟ اس سے آپ کو پاسپورٹ کی اپڈیٹ ملتی رہے گی،یہ اختیاری چیز ہے آپ چاہیں تو شروع کروا سکتے ہیں ورنہ منع بھی کر سکتے ہیں،اگر شروع کراتے ہیں تو ۵۰ روپیہ چارج لیا جائے گا۔ یہاں پر کاؤنٹرA کا کام مکمل ہوا۔ اب آپ کو آگے جانا ہے کاؤنٹرB پر وہاں چند کرسیاں ہوں گی، سامنے سکرین ہوگی،کرسی پر بیٹھ کر تھوڑی دیر انتظار کرنا ہے، جیسے ہی سکرین پر آپ کا نمبر نظر آئے تو اس کے سامنے لکھے ہوئے نمبر پر چلے جانا ہے۔۔مثلا۔۔B-1 B-2 وغیرہ، یہاں پر آپ کے ڈاکومنٹ کا ویریفیکیشن کیا جائے گا۔اس کے بعد آپ کو کاؤنٹر C پر جانا ہے،یہاں پر بھی چند کرسیاں اور سامنے سکرین ہوگی، تھوڑی دیر میں سکرین پر آپ کا نمبر نظر آئے گا، آپ کو اسی نمبر پر چلے جانا ہے، یہاں پر آپ کے پورے فارم کو چیک کیا جائے گا کہ کوئی غلطی تو نہیں ہے؟ اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو آپ کے پاسپورٹ کی آگے کی کاروائی شروع کردی جاتی ہے، پاسپورٹ آفس میں آپ کا کام پورا ہوا، اب آپ کو EXit پر اپنا ٹوکن نمبر جمع کر کے اس ڈینجر مقام سے باہر نکل جانا ہے😊۔ نوٹ۔۔۔۔یاد رہے آپ کا اصل آدھار کارڈ ہر جگہ مانگا جائے گا اس لیے اسے ساتھ میں رکھیں۔ ❸ انکوائری۔۔۔۔۔۔۔پاسپورٹ آفس کا کام مکمل ہونے کے ایک دو دن بعد آپ کو پولس تھانے سے فون آئے گا اور وہاں حاضر ہونے کا وقت دیا جائے گا، اس وقت پر وہاں پہونچنا ہے۔۔۔۔تھانے میں وہیں سارے ڈاکومنٹ لے جانا ہے جو پاسپورٹ آفس لے کر گئے تھے، اس کے ساتھ ایک فوٹو، ایک گواہ اور اس کے آدھار کارڈ کی کاپی، وہاں پر آپ سے دو دستخط کروائے جائیں گے، نیز گواہ سے بھی دستخط کروائی جائے گی۔۔۔بس کام پورا ہوا۔۔۔عام طور پر پولس والے کچھ روپیے بھی لیتے ہیں جو ان کا حق نہیں ہے،غیر قانونی ہے، اگر آپ چاہیں تو ان کے خلاف قانونی کاروائی کر سکتے ہیں۔ مبشر کاوی

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اسرائیلی مظالم کی ایک جھلک:

اسرائیلی مظالم کی ایک جھلک:

اقوام متحدہ کے ۱۹۴۸ء کے منظور کردہ نقشے کے مطابق نا جائز ریاست اسرائیل کا رقبہ پانچ ہزارتین سو (۵،۳۰۰) مربع میل تھا۔ لیکن اسرائیل نے رفتہ رفتہ تئیس ہزار (۲۳٬۰۰۰) مربع میل پر قبضہ کر لیا۔ اور اس پر بس نہیں عظیم تر اسرائیل کے نقشے میں مصر ، عراق ، شام ، سعودیہ عرب حتی کہ مدینہ منورہ، خیبر ، تک کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ یہودیوں کے فلسطین میں ظلم و تشدد کے پیش نظر مظلوم فلسطینی عوام نے اپنے دفاع کے لیے تنظیمیں تشکیل دیں۔ (۱) فتح تنظیم (۱۹۵۷ء) (۲) - تنظیم آزادی فلسطین (۱۹۶۴ء)(۳)-حماس [۱۹۸۷ء] سابقہ دو تنظیموں کی کارکردگی سے مایوسی کے بعد شیخ احمد یاسین نے ۱۹۸۷ء میں حماس کی بنیاد رکھی۔ ۲۰۰۴ء میں شیخ احمد یاسین کو شہید کر دیا گیا۔ ۲۰۰۷ء میں حماس نے فلسطینی عوام کا بھر پور اعتماد حاصل کر کے غزہ کے انتخابات میں کامیابی پائی۔ تب سے اب تک اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ: ”غزہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے۔“ یہود/اسرائیلی جب چاہتے ہیں اہل غزہ کا پانی بجلی سوئی گیس، یہاں تک کہ خوراک ، ادویات تک بند کر دیتے ہیں۔ غزہ کے ایک جانب سمندر، ایک طرف مصر اور ایک طرف خود اسرائیل ہے۔ سمندر بھی اسرائیلی قبضے میں ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اسرائیل نے پچاسی فیصد پینے کا پانی اپنے قبضے میں کیا ہوا ہے اور صرف پندرہ فیصد پانی فلسطینی مسلمانوں کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔ وہ بھی جب چاہتا ہے بند کر دیتا ہے۔ اس وقت تقریباً ۸۰ لاکھ یہودی ظلماً فلسطین پر قابض ہیں، جبکہ ۸۰ لاکھ ہی فلسطینی ہجرت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، جن میں ۴۵ لاکھ سے زائد تعداد مہاجر کیمپوں میں مقیم ہے۔ ۲۰۱۸ ء کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند سال سے اسرائیل اوسطاً ۲۸۵/فلسطینیوں کو بلا وجہ سالانہ شہید کرتا ہے۔ اور یہ عام ایام کی بات ہے، جن ایام میں فضائی بمباری جاری ہو اُن دنوں شہدا کی تعداد یومیہ بیسیوں اور سیکڑوں میں ہوتی ہے۔ اکتوبر ۲۰۰۱ ء تا جنوری ۲۰۰۵ء تک ساڑھے چھ سو سے زائد فلسطینیوں کے گھر بلا وجہ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیئے گئے ۔ میں تبدیل کر دیئے گئے ۔ سن ۲۰۰۰ ء تا سن ۲۰۰۶ ء کی رپورٹس کے مطابق خواتین کو اسرائیلی چوکیوں پر ایسے وقت میں قصداً روکا گیا، جب ولادت کا وقت قریب تھا، اور ۶۸ خواتین نے چیک پوسٹوں پر بچے جنم دیئے ۔ جن میں سے ۱۴ خواتین اُسی موقع پر شہید ہوئیں ۔ سن ۱۹۶۸ء کی لڑائی میں ساڑھے تین لاکھ فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔