دینی حکمت کا تقاضا ہم مسلمانوں کو اس حقیقت کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ اگر سو فیصد مسلمان تہجد گزار ہو جائیں اور ہر مسلمان کے ہاتھ میں تسبیح آجائے اور ہر مسلمان اشراق اور چاشت کا پابند ہو جائے لیکن اگر اکثریت اس سے نامانوس ہے، اکثریت اپنے دل میں اس کی طرف سے زہر لیے ہوئے بیٹھی ہے اور سینہ میں انگارے سلگ رہے ہیں تو خدا نخواستہ جس وقت اس ملک میں کوئی بھونچال آئے گا تو ہم اپنی ان تمام عبادتوں، نوافل کے ساتھ بے دخل ہو جائیں گے، اس وقت نوافل تو نوافل، جو بنیادی چیزیں ہیں وہ بھی نہیں رہیں گی، اس لیے دینی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس آبادی کو اپنے سے مانوس بنائیں، اسلام کا پیغام گھر گھر پہنچائیں، ان کو بتائیں کہ اسلام کیا ہے؟ ( تحفہ دکن : ۸۵) مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ (کتاب : ماہنامہ پیام عرفات رائے بریلی۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)



