دینی حکمت کا تقاضا ہم مسلمانوں کو اس حقیقت کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ اگر سو فیصد مسلمان تہجد گزار ہو جائیں اور ہر مسلمان کے ہاتھ میں تسبیح آجائے اور ہر مسلمان اشراق اور چاشت کا پابند ہو جائے لیکن اگر اکثریت اس سے نامانوس ہے، اکثریت اپنے دل میں اس کی طرف سے زہر لیے ہوئے بیٹھی ہے اور سینہ میں انگارے سلگ رہے ہیں تو خدا نخواستہ جس وقت اس ملک میں کوئی بھونچال آئے گا تو ہم اپنی ان تمام عبادتوں، نوافل کے ساتھ بے دخل ہو جائیں گے، اس وقت نوافل تو نوافل، جو بنیادی چیزیں ہیں وہ بھی نہیں رہیں گی، اس لیے دینی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس آبادی کو اپنے سے مانوس بنائیں، اسلام کا پیغام گھر گھر پہنچائیں، ان کو بتائیں کہ اسلام کیا ہے؟ ( تحفہ دکن : ۸۵) مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ (کتاب : ماہنامہ پیام عرفات رائے بریلی۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

علم کا بدصورت عاشق :

علم کا بدصورت عاشق :

اصل نام عمرو بن محبوب تھا ، ۱۶۰ ہجری میں پیدا ہوئے اور جاحظ کے لقب سے معروف ہوئے ، عربی میں جاحظ اُسے کہتے ہیں جس کی آنکھوں کے ڈھیلے اُبھرے ہوں ۔ اوائل میں اس لقب کو ناپسند کرتے تھے ، رفتہ رفتہ خاموش ہو گئے ۔ شاید ہی کسی کی شکل کا یوں مذاق اڑایا گیا ہو ، کسی نے انہیں شیطان سے تشبیہ دی ہے اور کسی شاعر نے تو یونہی بھی کہا ہے : اگر خنزیر دوبارہ مسخ کر دیا جائے پھر بھی جاحظ سے کم ہی بدصورت ہوگا ۔ بادشاہ متوکل نے انہیں اپنے بچوں کا استاد مقرر کرنا چاہا ، شکل دیکھی تو انکار کر دیا ۔ حالانکہ معتزلی فکر سے وابستہ تھے ، اس کے باوجود عربی ادب کے امام گردانے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے : جاحظ نے جس کتاب کو پکڑ لیا اسے مکمل پڑھنے تک نیچے نہیں رکھا ۔ اکثر کتابوں کی دکانیں کرائے پر لے کر رات رات بھر پڑھتے رہتے تھے ۔ آخری عمر میں کافی بیماریوں کا شکار ہوئے ، آدھا جسم مفلوج ہو گیا ، یونہی پڑھنے میں مصروف تھے کہ ارد گرد پڑی کتابیں ان پر آگریں اور یوں علم کا بدصورت عاشق کتابوں کے قبرستان میں دفن ہو گیا ۔ (علی سنان)