خدارا! ذرا سوچئے۔ یہ اللہ کے حضور حاضری ہے یا کسی کام کو نمٹانے کی جلدی؟ دل تڑپ اٹھتا ہے یہ دیکھ کر کہ جس نماز کو "مومن کی معراج" کہا گیا، اسے چند لمحوں میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ نہ قیام میں سکون، نہ رکوع میں ٹھہراؤ، نہ سجدے میں گریہ اور قرآن کا تو بس الفاظ دوڑائے اور نماز پوری! کیا اللہ کے دربار میں بھی یہی بے ادبی چلے گی؟ قرآنِ کریم کو اس رفتار سے پڑھنا کہ حروف نگل لئے جائیں، تجوید پامال ہو اور معانی کا پاس نہ رہے۔ یہ عبادت نہیں، یہ قرآن کے ساتھ زیادتی ہے۔ اگر تراویح بوجھ لگتی ہے تو ایسی تراویح سے بہتر ہے چھورڈیں، مگر عبادت کا گلا نہ گھونٹیں۔ اللہ کو ہماری رفتار نہیں چاہئے بلکہ ہمارا جھکا ہوا دل چاہئے۔ رکوع و سجدہ صرف جسم کا نہیں، دل کا بھی ہونا چاہیے۔ ورنہ ڈر ہے کہ ہم سمجھیں نماز ادا ہوگئی اور حقیقت میں کچھ بھی ادا نہ ہوا ہو۔ خدارا! رمضان کو رسم نہ بنائیں۔ نماز کو مقابلہ نہ بنائیں۔ قرآن کو دوڑ نہ بنائیں۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہونا سعادت ہے۔ اسے سنجیدگی، ادب اور خوفِ خدا کے ساتھ ادا کیجیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جلدی میں ہم عبادت نہیں، اپنی آخرت ختم کر بیٹھیں۔ اللہ ہمیں نماز کی قدر، قرآن کا ادب اور عبادت کا شعور عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

بیٹے کا اسلام قبول کرنا: ایک فرانسیسی ماں کی حیرت انگیز خواہش

بیٹے کا اسلام قبول کرنا: ایک فرانسیسی ماں کی حیرت انگیز خواہش

ایک فرانسی عورت اپنے چودہ سالہ بیٹے کو لے کر فرانس کے اسلامک سنٹر میں آئی تاکہ اس کا بیٹا مسلمان ہو جائے ، وہ دونوں اسلامک سنٹر پہنچ گئے ، اسلامک سنٹر کے ناظم کے آفس میں جا کر بچے نے ملاقات کی ، بچے نے کہا میری امی چاہتی ہے میں مسلمان ہو جاؤں ، مرکز اسلامی کے ناظم نے بچے سے پوچھا کیا تم اسلام قبول کرنا چاہتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ بچے نے جواب دیا، میں نے ابھی تک اس پر غور نہیں کیا ہے لیکن میری ماں کی خواہش ہے میں اسلام قبول کرلوں ، ناظم کو بچے کے اس جواب پر بڑی حیرت ہوئی ، اس نے بچے سے پوچھا کیا تمھاری ماں مسلمان ہے۔۔۔۔۔؟ بچے نے کہا کہ نہیں میری ماں مسلمان نہیں ہے اور نہ ہی مجھے معلوم ہے کہ وہ مجھے اسلام قبول کرنے کے لئے کیوں کہتی ہے ، ناظم نے پوچھا ، تمھاری ماں کہاں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ بچے نے کہا وہ مرکز اسلامی کے باہر کے حصہ میں کھڑی ہے ، ناظم نے کہا اپنی ماں کو بلا لاؤ، تاکہ میں اس سے گفتگو کر کے صورتحال جان سکوں ، بچہ اپنی ماں کو لے کر ناظم کے پاس آیا ، ناظم نے ماں سے پوچھا کہ کیا یہ بات درست ہے ، کہ تم مسلمان نہیں ہو اور چاہتی ہو کہ تمھارا بیٹا مسلمان ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ ماں نے کہا کہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے ، ناظم کو اس جواب پر بڑی حیرانی ہوئی اس نے ماں سے پوچھا کیوں چاہتی ہو تمھارا بیٹا اسلام قبول کرلے ، * ماں نے جو جواب دیا وہ حیرت زدہ کرنے والا تھا ماں نے بتایا میں پیرس کے جس فلیٹ میں رہتی ہوں ، میرے فلیٹ کے بالمقابل ایک مسلم فیملی کا فلیٹ ہے اس کے دو بچے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ، صبح و شام جب بھی یہ دونوں بچے گھر سے نکلتے ہیں یا گھر میں داخل ہوتے ہیں وہ اپنی والدہ کی پیشانی چومتے ہیں اور ہاتھ کو بوسہ دیتے ہیں اور بڑے احترام اور ادب سے اپنی ماں کے ساتھ پیش آتے ہیں ، گویا وہ ماں کسی ملک کی پرائمنسٹر ہو ، * میں نے جب سے یہ منظر دیکھا ہے میری دلی تمنا ہو گئی ہے کہ میرا بیٹا بھی مسلمان ہو جائے ورنہ مجھے ڈر ہے ، میں جب بوڑھی ہو جاؤں وہ کہیں مجھے اولڈ ایج ہوم میں نہ رکھے ، میں چاہتی ہوں وہ میرے ساتھ ایسا سلوک کرے ، جیسے یہ مسلم ماں کے بچے اپنی والدہ کے ساتھ کرتے ہیں ______________📝📝📝______________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ