حضرت حسینؓ کا ایک دیہاتی سے سبق آموز مکالمہ

ایک دیہاتی حضرت حسینؓ بن علیؓ کے پاس گیا ، ان کو سلام کیا اور ان سے حاجت کا سوال کیا ، اور اس نے کہا میں نے آپ کے نانا سے سنا ہے ، انہوں نے فرمایا کہ جب تم کسی سے حاجت کا سوال کرو تو وہ چار (صفات والے آدمیوں) میں سے ایک سے مانگو نمبر ۱ : یا تو وہ شریف عربی ہو نمبر ۲ : یا سخی مددگار ہو نمبر ۳ : یا حامل قرآن ہو نمبر ۴ : یا خوبصورت چہرے والا ہو بہر حال عرب ہونا ، تو وہ آپ کو آپ کے نانا سے شرف حاصل ہے اور سخاوت ، تو وہ آپ سے اور آپ کی سیرت سے شروع ہوئی ہے اور قرآن ، تو وہ آپ کے گھروں میں نازل ہوا ہے ۔ اور خوبصورت چہرہ ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ، انہوں نے فرمایا کہ جب تم مجھے دیکھنے کا ارادہ کرو ، تو حسن اور حسین کی طرف دیکھو ۔ (یعنی بقول حضور کے آپ میں یہ چاروں صفات پائی جاتی ہیں ۔ ) حضرت حسینؓ نے فرمایا ، تیری کیا حاجت ہے ؟ تو اس نے وہ حاجت زمین پر لکھ دی ۔ تو حضرت حسینؓ نے فرمایا میں نے اپنے والد حضرت علیؓ سے سنا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہر آدمی کی قیمت اتنی ہے جتنا وہ احسان کرے ، اور میں نے اپنے نانا سے سنا ، انہوں نے فرمایا نیکی معرفت کے بقدر ہوتی ہے ۔ لہٰذا میں تجھ سے تین مسائل پوچھوں گا ، اگر تو نے ایک کا جواب اچھا دیا تو جو کچھ میرے پاس ہے اس کا ایک ثلث تیرا ہو گا اور اگر تو نے دو کا جواب دیا تو تیرے لئے میرے پاس موجود کا دو ثلث ہو گا ، اور اگر تو نے تینوں کا جواب دیا تو میرے پاس موجود سب تیرا ہو گا ، اور حال یہ ہے کہ میری طرف عراق سے ایک مہر زدہ تھیلی (ہدیہ) بھجوائی گئی ہے۔ اس دیہاتی نے کہا کہ پوچھیے ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ نمبر ۱ : حضرت حسین نے پوچھا ، اعمال میں سے افضل کیا ہے ؟ اعرابی نے کہا ، اللہ پر ایمان لانا ۔ نمبر ۲ : حضرت حسین نے پوچھا ، بندہ کی ہلاکت سے نجات کیا ہے ؟ اعرابی نے کہا ، اللہ پر بھروسہ کرنا ۔ نمبر ۳ : حضرت حسین نے پوچھا ، کونسی چیز آدمی کو زینت بخشتی ہے ؟ دیہاتی نے کہا ، علم جس کے ساتھ بردباری ہو ۔ نمبر ۴ : حضرت حسین نے پوچھا ، اگر یہ اس سے خطأً چلی جائے تو؟ اعرابی نے کہا پھر مال ( سے تلافی ہو سکتی ہے ) جس کے ساتھ سخاوت ہو۔ حضرت حسین نے پوچھا ، اگر یہ بھی اس سے خطأً چلی جائے تو ؟ دیہاتی نے کہا ، پھر فقر ہے جس کے ساتھ صبر ہو ۔ حضرت حسین نے پوچھا اگر یہ بھی اس سے خطأً چلی جائے تو ؟ اعرابی نے کہا ، پھر تو آسمان سے اتاری جانے والی بجلی ہی ہے جو اس کو جلا کر رکھ دے گی ۔ (یعنی پھر اس کے بچنے کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ ) حضرت حسین اس کے صحیح جوابات پر ہنسنے لگے اور وہ تھیلی اس کی طرف پھینک دی ۔ ترجمہ : محمد فیاض خان سواتی التفسیر الکبیر عربی ج ۲ ص ۱۹۸ طبع مصر ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

زندگی کا خلاصہ

زندگی کا خلاصہ

محترم شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے سوال کیا گیا کہ حضرت زندگی کا خلاصہ کیا ھے؟ حضرت نے یہ ۲۰ نکات ارشاد فرمائے: (۱) ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا کرو۔ (۲) کوشش کرو کہ پوری زندگی میں کوئی تمہاری شکایت کسی دوسرے انسان سے نہ کرے۔ پروردگار سے تو بہت دور کی بات ہے۔ (۳) خاندان والوں کے ساتھ کبھی مقابلہ مت کرنا۔ نقصان قبول کر لینا ،مگر مقابلہ مت کرنا۔بعد میں نتیجہ خود مل جائے گا۔ (۴) کسی بھی جگہ یہ مت کہنا کہ میں عالم ہوں۔ میرے ساتھ رعایت کرنا۔ یہ ایک نامناسب عمل ہے۔کوشش کرو دینے والے بن جاؤ۔ (۵) سب سے بہترین دسترخوان گھر کا دسترخوان ہے. جو بھی تمہاری نصیب میں ہوگا بادشاہوں کی طرح کھا لوگے۔ (۶) اللہ کے سوا کسی سے امید مت رکھنا۔ (۷) ہر آنے والے دن میں اپنی محنت میں مزید اضافہ کرنا۔ (۸) مالداروں اور متکبروں کی مجالس سے دوری اختیار کرنا مناسب ہے۔ (۹) ہر دن صبح کے وقت صدقہ کرنا ،شام کے وقت استغفار کا ورد کرنا۔ (۱۰) اپنی گفتگو میں مٹھاس پیدا کرنا۔ (۱۱) اونچی آواز میں چھوٹے بچے سے بھی بات مت کرنا ۔ (۱۲) جس جگہ سے تمہیں رزق مل رہا ہے اس جگہ کی دل وجان سے عزت کرنا۔جس قدر ادب کروگے ان شاءاللہ رزق میں اضافہ ہوگا۔ (۱۳) کوشش کرو کہ زندگی میں کامیاب لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کرو۔ ایک نہ ایک دن ضرور تم بھی اس جماعت کا حصہ بن جاؤگے۔ (۱۴) ہر فیلڈ کےہنر مند کی عزت کرنا ،ان کے ساتھ ادب سے پیش آنا چاہئے ،خواہ وہ کسی بھی فیلڈ کا ھو۔ (۱۵) والدین ،اساتذہ اور رشتے داروں کے ساتھ جس قدر اخلاق کا معاملہ کروگے اس قدر تمہارے رزق اور زندگی میں برکت ھوگی۔ (۱۶) ہر کام میں میانہ روی اختیار کرنا۔ (۱۷) عام لوگوں کے ساتھ بھی تعلق رکھنا اس سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ (۱۸) ایک انسان کی شکایت دوسرے سے مت کرنا، ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ (۱۹) ھر بات کو مثبت انداز میں پیش کرنا ،اس سے بہت سے مسائل حل ھو جائیں گے۔ (۲۰) بڑوں کی مجلس میں زبان خاموش رکھنا۔ آخر میں درج ذیل دعا سکھائی کہ مشکل وقت میں اہتمام کے ساتھ پڑھا کرو ان شاء الله بہت فائدہ ھوگا: "رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا" منقول۔