خودی کا فلسفہ سن کر دعائیں کانپ اٹھتی ہیں
 چراغِ دِل کی حِدت...
Ummah Post
11 November, 2024

خودی کا فلسفہ سن کر دعائیں کانپ اٹھتی ہیں

چراغِ دِل کی حِدت سے ہوائیں کانپ اٹھتی ہیں

سلاخیں اپنے زنداں کی ذرا مضبوط رکھنا تم

کہ شاہیں پھڑپھڑائے تو فضائیں کانپ اٹھتی ہیں

ہمیں مصلوب کرکے بھی بہت مایوس ہوگے تم

ہماری مسکراہٹ پر سزائیں کانپ اٹھتی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عابی مکھنوی

Share this article
بادشاہ اور بچہ کی حکیمانہ گفتگو!
مضامین

بادشاہ اور بچہ کی حکیمانہ گفتگو!

حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ جب کوئی دعا مانگتے اور آنکھ سے کوئی آنسو آتا تو حضرت ان آنسوؤں کو اپنے چہرے پر مل لیا کرتے ایک مرتبہ ایک طالب علم نے دیکھ لیا۔ اس نے کہا ،حضرت! آپ کا یہ عمل کس بنا پر ہے؟ فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ان آنسوؤں کی برکت سے میرے چہرے کو جہنم کی آگ...