Naats

اہم مسئلہ

خطبہ کے ممبر پر دینی کتاب رکھنا؟ ممبر کی اُس سیڑھی پر جہاں امام بیٹھتا ہے یا قدم رکھتا ہے، دینی کتابیں رکھنا بے ادبی ہے، اس سے احتراز کرنا چاہئے۔(کتاب النوازل/ج:۱۵/ص:۶۷)

اے اہل دنیا ! تم کو لحد یاد ہے ؟

اے اہل دنیا! جان لو کہ تم کو بھی ایک دن مرنا ہے ـ موت کے بعد اٹھنا اور اپنے نیک و بد اعمال کی جزا اور سزا کو پہنچنا ہے ـ پس دنیا کے چند روز جینے پر مت پھولو اور موت کو کبھی نہ بھولو ـ دنیا مصیبت کا گھر ہے ـ فنا ہونا اس کا مشہور ہے اور دھوکہ اس کا شعار ہے ـ اس کی ہر ایک چیز کا انجام زوال ہے اور اس کا ہمیشہ کسی کے پاس رہنا محال ہے ـ جب آدمی کو اس میں تھوڑا آرام آتا ہے تو اس کے عوض برسوں کا رنج سامنے آتا ہے ـ موت ہر ایک کے سر پر قائم ہے اور اس کا ذائقہ چکھنا سب کو لازم ہے ـ خدا تعالٰی کے بندو! آج تمہارا دنیا میں ایسا حال ہے جیسا تم سے پہلے لوگوں کا تھا جو تم سے عمر میں ذیادہ، طاقت میں قوی، آبادی کثیر اور مکانات میں اعلٰی تھے ـ مگر زمانہ کے انقلاب سے آج ان کی آواز بھی نہیں نکلتی ـ ان کے جسم قبروں میں سڑ گئے، شہر اجڑ گئے اور مکانات گر گئے ـ یا وہ محالت ( محلات) عالیشان گاؤ تکیے اور مخملی فرش تھے یا اب پتھر اور اینٹیں، خاک گور اور گوشئہ لحد ہے ـ کیا تمہیں کچھ شبہ ہے کہ جیسا اُن کا حال ہوا وہی تمہارا نہ ہوگا ؟وہی تنہائی نہ ہوگی اور وہی خاک میں یہ جسم کیڑوں کی خوراک نہ ہوگا ؟؎ سنورتے تھے کہ اک عالم کی آنکھیں ہم کو دیکھیں گی خبر کیا تھی ہماری مجلسیں ماتم کو دیکھیں گی! ستم ہے جامہ ہستی کا اس تن سے جدا ہونا لباس تنگ ہے اترے گا آخر دھجیاں ہوکر! جتنی بڑھتی ہے اتنی گھٹی ہے زندگی آپ ہی آپ کٹتی ہے نظر غور سے جو دنیا کی حالت دیکھی برپا ہم نے ہر روز یہاں کی قیامت دیکھی

اہم مسئلہ

خطبہ کے ممبر پر دینی کتاب رکھنا؟ ممبر کی اُس سیڑھی پر جہاں امام بیٹھتا ہے یا قدم رکھتا ہے، دینی کتابیں رکھنا بے ادبی ہے، اس سے احتراز کرنا چاہئے۔(کتاب النوازل/ج:۱۵/ص:۶۷)

شاعری

جلسۂ قرب محبت : محبت میں کبھی ایسا زمانہ بھی گذرتا ہے زبان خاموش رہتی ہے مگر دل روتا رہتا ہے اگر چہ راہ تقوی میں ہزاروں غم بھی آتے ہیں مگر جو عاشق صادق ہے غم کو سہتا رہتا ہے صلہ عشق مجازی کا یہ کیسا ہے ارے توبہ کہ عاشق روتے رہتے ہیں صنم خود سوتا رہتا ہے خطاؤں کی اگر آئی ہے دامن پر ذرا سیاہی تو اپنے آنسوؤں سے عشق اس کو دھوتا رہتا ہے گنہگاروں کی مت تحقیر کراے زاہد ناداں کہ ان کی آہ وزاری پر فلک بھی روتا رہتا ہے بہ فیض مرشد کامل جو درد دل ہوا حاصل تو دل پر جلسہ قرب محبت ہوتا رہتا ہے جو غیروں پر فدا کرتا ہے اپنے قلب و جاں اختر یہ جرم بے وفائی حق سے وہ محروم رہتا ہے

//