عرب عورتوں کی یہ روائت تھی کہ وہ اپنے بچے کو اس حالت میں نہی...
Ummah Post
16 November, 2024

عرب عورتوں کی یہ روائت تھی کہ وہ اپنے بچے کو اس حالت میں نہیں سلاتی تھیں جب وہ روتا ہو، اس خوف سے کہ غم اس کے جسم میں سرایت کر کے اس کی رگوں میں دوڑنے لگے گا۔ وہ اپنے بچے کو مسکراہٹ دلانے کی کوشش کرتیں، اسے خوش کرنے کی جدوجہد کرتیں تاکہ وہ سکون سے سو سکے، جس سے اس کا جسم مضبوط ہوتا، رنگت اور خون میں بہتری آتی اور ذہن کو آرام ملتا۔

— مروج الذهب | المسعودی

Share this article
آج تھوڑا سا حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
مضامین

آج تھوڑا سا حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

آپ کو دفناکر واپس آتے ہی آپ کے لواحقین کا دھیان رخصت ہوتے ہوئے مہمانوں کے کھانے کے بندوبست کی طرف جائے گا کہ انھیں کھانا کھلا کر رخصت کرتے ہیں۔ ایک ہفتہ گزرے گا آپ کے بچوں کے اسکول واپسی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ دو ہفتے گزریں گے افسوس کرنے والوں کا آنا جانا بند ہوجائے گا۔ تین ہفتوں تک آپ کی قبر ک...