*گھاس* سے  *ساگ*

ساگ اصل میں گھاس ہی تھا...
پرانے زمانے میں...
Ummah Post
18 November, 2024

*گھاس* سے *ساگ*

ساگ اصل میں گھاس ہی تھا...

پرانے زمانے میں لوگوں نے جب یہ گھاس پکا کر چکھی تو بہت اچھی لگی...

لیکن کوئی پوچھتا کہ کیا کھایا ہے؟

تو بتاتے ہوئے شرم آتی کہ ہم نے گھاس کھائی ہے..

چنانچہ ایک دن ایک دانا بابا جی نے کچھ دیر غوروفکر کے بعد لفظ گھاس کو الٹ دیا...

اب اس کا نام ساگھ پڑ گیا...

پھر زمانے کے گزرنے کے ساتھ نام میں تخفیف ہوئی تو ساگھ سے ساگ ہو گیا...

اب پنجاب کے دیہی علاقوں میں یہ ایک معزز سبزی کے طور پر کھایا جاتا ہے...

جبکہ اسکی اصل وہی ہے جو پہلی سطر میں مذکور ہے.

Share this article
شمعِ فروزاں: دینِ حق اور ابراہیمی فتنہ
مضامین

شمعِ فروزاں: دینِ حق اور ابراہیمی فتنہ

(ملخص - اسلامک ٹیوب پرو اپپ ) اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے ایک مقرر راستہ بنایا ہے۔ کھانا منہ سے معدے تک جاتا ہے، جہاں لعاب اسے ہضم کے قابل بناتا ہے۔ سانس ناک سے پھیپھڑوں تک جاتی ہے۔ اگر کوئی اس قدرتی نظام کو بدلنے کی کوشش کرے، جیسے کھانا ناک میں ڈالے، تو زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بالکل اسی طر...