شان صحابہ پر ایک نرالی تحریر

از : محدث عصر علامہ سيد محمد يوسف بنوری رحمہ اللّٰہ بات تو بالکل کھلی ہے کہ صحابہؓ کیسے ہی ہوں، مگر تم سے تو اچھے ہی ہوں گے، تم ہوا پر اُڑ لو، آسمان پر پہنچ جاؤ، سو بار مر کر جی لو، مگر تم سے صحابیؓ تو نہیں بنا جاسکے گا، تم آخر وہ آنکھ کہاں سے لاؤ گے جس نے جمالِ جہاں آرائے محمد کا دیدار کیا؟ وہ کان کہاں سے لاؤ گے جو کلماتِ نبوت سے مشرف ہوئے ؟ ہاں وہ دل کہاں سے لاؤ گے جو انفاسِ مسیحائی محمدی سے زندہ ہوئے؟ وہ دماغ کہاں سے لاؤ گے جو انوارِ مقدس سے منور ہوئے؟ تم وہ ہاتھ کہاں سے لاؤ گے جو ایک بار بشرۂ محمدی سے مس ہوئے اور ساری عمر اُن کی بوئے عنبریں نہیں گئی؟ تم وہ پاؤں کہاں سے لاؤ گے جو معیتِ محمدی میں آبلہ پا ہوئے؟ تم وہ زمان کہاں سے لاؤ گے جب آسمان زمین پر اتر آیا تھا؟ تم وہ مکان کہاں سے لاؤ گے جہاں کونین کی سیادت جلوہ آرا تھی؟ تم وہ محفل کہاں سے لاؤ گے جہاں سعادتِ دارین کی شرابِ طہور کے جام بھر بھردیتے جاتے اور تشنہ کا ’’مان محبت‘‘ ’’ہل من مزید‘‘ کا نعرہ مستانہ لگا رہے تھے؟ تم وہ منظر کہاں سے لاؤ گے جو’’کأنی أری اللّٰہ عیاناً ‘‘کا کیف پیدا کرتا تھا؟ تم وہ مجلس کہاں سے لاؤگے جہاں’’ کأنما علی رؤسنا الطیر‘‘ کا سماں بندھ جاتاتھا؟ تم وہ صدر نشین تختِ رسالت کہاں سے لاؤ گے جس کی طرف ’’ھذا الأبیض المتکیٔ ‘‘سے اشارے کئے جاتے تھے؟ تم وہ شمیمِ عنبر کہاں سے لاؤ گے جو دیدارِ محبوب میں خوابِ نیم شبی کو حرام کردیتی تھی؟ تم وہ ایمان کہاں سے لاؤ گے جو ساری دنیا کو تج کر حاصل کیا جاتا تھا؟ تم وہ اعمال کہاں سے لاؤ گے جو پیمانۂ نبوت سے ناپ ناپ کر ادا کیے جاتے تھے؟ تم وہ اخلاق کہاں سے لاؤ گے جو آئینۂ محمدی سامنے رکھ کر سنوارے جاتے تھے؟ تم وہ رنگ کہاں سے لاؤ گے جو ’’صبغۃ اللّٰہ‘‘ کی بھٹی میں دیا جاتا تھا؟ تم وہ ادائیں کہاں سے لاؤ گے جو دیکھنے والوں کو نیم بسمل بنا دیتی تھیں؟ تم وہ نماز کہاں سے لاؤ گے جس کے امام نبیوں کے امام تھے؟ تم قدوسیوں کی وہ جماعت کیسے بن سکو گے جس کے سردار رسولوں کے سردار تھے؟ تم میرے صحابہؓ کو لاکھ برا کہو، مگر اپنے ضمیر کا دامن جھنجھوڑ کر بتاؤ! اگر ان تمام سعادتوں کے بعد بھی میرے صحابہؓ برے ہیں تو کیا تم ان سے بدتر نہیں ہو؟ اگر وہ تنقید وملامت کے مستحق ہیں تو کیا تم لعنت وغضب کے مستحق نہیں ہو؟ اگر تم میرے صحابہؓ کو بدنام کرتے ہو تو کیا میرا خدا تمہیں سرِ محشر سب کے سامنے رسوا نہیں کرے گا؟ اگر تم میں انصاف وحیا کی کوئی رمق باقی ہے تو اپنے گریبان میں جھانکو اور میرے صحابہؓ کے بارے میں زبان بند کرو اور اگر تمہارا ضمیر بالکل مسخ ہوچکا ہے تو بھری دنیا یہ فیصلہ کرے گی کہ میرے صحابہؓ پر تنقید کا حق ان کپوتوں کو حاصل ہونا چاہیے؟ _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

بابا جی کی چار نصیحتیں

بابا جی کی چار نصیحتیں

جن دنوں میں مدرسہ میں پڑھتاتھا۔ ایک بابا جی زیادہ تر وقت مسجد میں گزارتے تھے۔ ہمہ وقت کسی ناکسی عبادت میں مشغول رہتے۔ یہی موسم تھا سخت سردی تھی۔ میں نے دیکھا وہ ٹھنڈے یخ پانی سے وضو کررہے تھے۔ اور مسکرا رہے تھے۔ میں پہلے تو انکی عجب مسکراہٹ کے سحر میں گرفتار رہا۔ جب انکی نگاہ مجھ پر پڑی تو میں چونک گیا۔ میں انکے قریب گیا اور پوچھا”بابا جی آپ اتنے ٹھنڈے پانی سے وضو کررہے ہیں بجاۓ سی سی کرنے کے مسکرارہے ہیں“۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھوں کی بھوویں صاف کیں اور بولے”بیٹا جی ابھی آپ چھوٹے ہو نہیں سجھوگے“ میں نے کہا ”مجھے پتاہے آپکو لطف آ رہا تھا“ انہوں نے میری طرف دیکھا اور بولے ”بیٹا میں اس قابل تو نہیں کہ عبادت میں لطف کا دعویٰ کروں البتہ مجھے اس ٹھنڈے پانی سے سرور محسوس ہوتاہے، میں یہ سوچ کر کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہاہے اور وہ دیکھ رہا ہے اس کا خبیث ”ترکیا ہویا“ بڈھا صرف مجھے راضی کرنے ٹھنڈے پانی میں ہاتھ دے رہا ہے تو میرا گمان کہتا ہے میرا مولا خوش ہو رہا ہوگا۔ بس اسی کیفیت کا جو لطف ہے مجھ پر۔۔۔۔۔۔“ وہ یہ کہہ کر سسکیاں لے کر رونے لگے، میری بہتی آنکھیں انکا ساتھ دینے کی ناکام کوشش کررہی تھیں۔ جب وہ خاموش ہوۓ میں نے پوچھا ”باباجی یہ عبادت کا لطف اور مزہ کیسے حاصل کیا جاسکتاہے؟“ وہ بولے”بہت آسان ہے بس چار کام کرنے ہونگے۔ ہر نیک کام میں ایسا لطف آٸے گا کہ دل باغ باغ ہوجاۓ گا۔ ١۔ دنیا سے بے رغبت ہوجاٶ۔ اسے دل سے نکال دو۔ اسے فقط ضرورت کے درجہ میں رکھو شوق اور لذت کے درجہ میں نہیں۔ ٢۔ اپنا رزق  ڈنکے کی چوٹ پر حلال رکھو حتیٰ کہ مشکوک اور مشتبہ چیز سے بھی بچ جاٶ۔ ٣۔ چپ رہاکرو۔ ضرورت سے زاٸد گفتگو نہ کیا کرو فضول گپیں ناں ہانکا کرو۔ ٤۔ اپنی آنکھوں کی حفاظت کرو۔ جس دن آنکھوں کی حفاظت شروع کرو گے عبادت کا سرورملنا شروع ہوجاۓ گا۔ احباب گرامی! آج ۲۲ سال بعد جب مجھے بابا جی کی باتیں یادآٸیں تو میں انکی قبر پر گیا فاتحہ پڑھی اور بڑی دیر وہاں بیٹھا رہا۔ کیا ہی قیمتی اقوال انہوں نے ارشاد فرماۓ۔ اگرہم یہ چار کام کرلیں تو واقعتاً عبادت کی چاشنی اور سرور محسوس ہوگا. ____________📝📝____________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ