حافظ سخاوی رحمه الله لکھتے ہیں : 

«اجْتَنِبْ أَيُّهَا الْكَ...
Ummah Post
20 September, 2024

حافظ سخاوی رحمه الله لکھتے ہیں :

«اجْتَنِبْ أَيُّهَا الْكَاتِبُ الرَّمْزَ لَهَا أَي لِلصَّلَاةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَطِكَ، بأن تَقْتَصِرَ مِنْهَا عَلَى حَرْفَيْنِ، وَنَحْوِ ذلِكَ، فَتَكُونَ مَنْقُوصَةٌ صُورَةٌ، كَمَا يَفْعَلُهُ الكُسَالَى وَالْجَهَلَةُ مِنْ أَبْنَاءِ الْعَجَمِ غَالِبًا وَعَوَامُ الطَّلَبَةِ، فَيَكْتُبُونَ بَدَلًا عَنْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ص ، أَوْ صم، أَوْ صلم، أَوْ صلعم، فَذَلِكَ لِمَا فِيهِ مِنْ نَّقْصِ الأَجْرِ لِنَقْصِ الكِتابَةِ خِلافُ الأولى»

”اے لکھنے والے ! اپنی لکھائی میں رسول اللهﷺ پر درود کی اس طرح رمز لکھنے سے اجتناب کرو کہ دو یا تین چار حرفوں پر اکتفا کر لو۔ اس طرح درود کی صورت ناقص ہو جاتی ہے، جیسے سست اور بہت سے جاہل عجمیوں کا طرز عمل ہے، اکثر طلبہ بھی اس غلطی کا شکار ہیں۔ وہ "ﷺ" جگہ ص،صم،صلم یا صلعم لکھتے ہیں۔ یہ طریقہ کتابت میں نقص کی بنا پر اجر میں کمی کی وجہ سے غیر مستحسن ہے۔“

[فتح المغيث بشرح ألفية الحديث : ٧٢/٣-٧١]

Share this article
یہ کالا نشان کیوں ہے؟
مضامین

یہ کالا نشان کیوں ہے؟

امام زین العابدین رحمہ اللہ الله کو اللہ تعالیٰ نے بہت خوبصورت جسم عطا کیا تھا۔ جب ان کی وفات ہوئی اور غسال ان کو نہلانے لگا تو اس نے دیکھا کہ ان کے کندھے کے اوپر ایک کالا نشان ہے۔ اس کو سمجھ نہ آسکی کہ یہ کالا نشان کیوں ہے؟ اہل خانہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی کہا کہ ہمیں پتہ نہیں ہے۔ جب کچھ دن گز...