میری ناقص رائے میں!؟
٭٭٭
حسنِ اتفاق ہے کہ آج پے بہ پے دو نہا...
Ummah Post
18 June, 2025

میری ناقص رائے میں!؟

٭٭٭

حسنِ اتفاق ہے کہ آج پے بہ پے دو نہایت قابلِ احترام اہلِ علم کی تحریروں میں بطورِ انکسار یہ مشہور جملہ نظر سے گزرا:

’’میری ناقص رائے میں۔‘‘

بندۂ ناچیز کی رائے میں یہ تعبیر کچھ موزوں نہیں۔

سوچیے، جب آپ خود اپنی بات کو ناقص قرار دے رہے ہیں تو پھر اس کے بیان کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟

اور کوئی سامع یا قاری اسے سنجیدگی سے کیوں لے گا؟

یاد رہے کہ ’’ناقص‘‘ کے معنی ہی عیب دار، ناپختہ، خراب اور کم تر کے ہیں۔ سو جس بات کو آپ دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہوں، اسے ازخود معیوب کہنا (اگرچہ مراد یہ نہ ہو) مناسب تو نہیں۔

انکسار کے اظہار کے لیے کہیں زیادہ مناسب ہوگا کہ یوں کہا جائے:

’’میری عاجزانہ رائے میں‘‘

بلکہ زیادہ خوبصورتی اس میں ہے کہ نسبت رائے کی طرف نہیں، اپنی ذات کی طرف کی جائے، جیسے:

’’مجھ ناچیز کی رائے میں۔‘‘

٭

Share this article
غلام کا آقا کو حکیمانہ طمانچہ
مضامین

غلام کا آقا کو حکیمانہ طمانچہ

جنگ اسکندریہ میں رومی ایک قلعے میں بند تھے اور مسلمانوں نے اس قلعے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ ایک روز رومی میدان میں نکلے اور سپہ سالار حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ چند سوار لے کر ان کے مقابل ہوئے ، گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ مسلمان رومیوں کو دباتے ہوئے برابر قلعے کی طرف چلے گئے اور رومیوں کے ہمراہ قلعہ ک...