"اے گناہوں کی کثرت کا بوجھ اٹھائے، اور گریہ و زاری سے محروم...
Ummah Post
28 August, 2025

"اے گناہوں کی کثرت کا بوجھ اٹھائے، اور گریہ و زاری سے محروم شخص!

اپنے اشکوں کے قحط پر رویا کر۔

اسلاف تو بہترین تقوی کے مالک تھے مگر پھر بھی روتے تھے۔ تیرے پاس گناہوں کا انبار ہے اور تو ہنستا ہے۔"

[الخواتيم لابن جوزي: ٢٥٤]

Share this article
آج ہی تو غربت کا مزا ملا ہے
مضامین

آج ہی تو غربت کا مزا ملا ہے

ایک گاؤں میں غریب نائی رہا کرتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا مشکل سے گزر بسر ہو رہی تھی ۔ اس کے پاس رہنے کو نہ گھر تھا۔ نہ بیوی تھی نہ بچے تھے ۔ صرف ایک چادر اور ایک تکیہ اس کی ملکیت تھی ۔ جب رات ہوتی تو وہ ایک بند سکول کے باہر چادر بچھاتا ، تکیہ رکھتا اور سو جاتا ایک د...