اے بلال (رَضِيَ ٱللَّٰهُ عَنْهُ) اتنی بے رخی کیوں؟
مفتی عبد الوھاب، لندن
محبت صرف الفاظ کا نام نہیں، محبت وہ ہے جو انسان کو بدل دے۔
مکہ کی تپتی ریت، جلتی دھوپ، سینے پر بھاری پتھر، جسم پر زخم، مگر زبان پر ایک ہی صدا:
أَحَدٌ أَحَدٌ!
یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی توحید سے وہ وفا تھی جس کے لیے انہوں نے ہر اذیت برداشت کرلی۔ پھر اسلام نے اسی غلام کو وہ مقام دیا کہ فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے حکم پر وہ بیت اللہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دے رہے تھے۔ کل جسے مکہ کی گلیوں میں ستایا جاتا تھا، آج اسی کی آواز خانۂ کعبہ سے توحید کا اعلان کر رہی تھی۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی محبت رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ تک محدود نہ تھی۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد مدینہ کی گلیاں ان کے لیے بدل گئیں۔ وہ اذان، جو محبوب ﷺ کے سامنے دی جاتی تھی، اب دل کے زخم تازہ کر دیتی تھی۔ چنانچہ وہ مدینہ سے شام چلے گئے۔
ایک مشہور روایت میں آتا ہے کہ خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی اور فرمایا:
"يا بلال، ما هذه الجفوة؟ أما آن لك أن تزورني؟"
اے بلال! یہ بے رخی کیوں؟ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم میری زیارت کرو؟
حضرت بلال رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے، روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوئے اور یادِ مصطفیٰ ﷺ میں اشک بار ہوگئے۔
سوچیے، وہی مدینہ، وہی مسجد، وہی مؤذن، مگر رسول اللہ ﷺ نگاہوں کے سامنے نہ تھے۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ محبت صرف جذبات نہیں، وفا، قربانی اور اتباع کا نام ہے۔
آج ہم محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر اپنے آپ سے پوچھیں:
کیا نماز ہمیں محبوب ﷺ کی یاد دلاتی ہے؟
کیا سنت ہماری زندگی میں نظر آتی ہے؟
کیا ہمارے اخلاق میں سیرتِ نبوی ﷺ کی خوشبو ہے؟
کیا ہم اپنی خواہش کو آپ ﷺ کے طریقے پر قربان کرسکتے ہیں؟
محبت صرف زبان سے یا رسول اللہ ﷺ کہنے کا نام نہیں۔ حقیقی محبت یہ ہے کہ زندگی کے فیصلے بھی رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ہوں۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی صدا آج بھی تاریخ میں گونج رہی ہے:
أَحَدٌ أَحَدٌ!
ایک اللہ سے وفا، اور رسول اللہ ﷺ سے بے مثال محبت۔ یہی ایمان کی حرارت، یہی وفا کی خوشبو، اور یہی عشقِ بلال ہے۔



