حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ  اللہ علیہ اپنے کسی سفر میں روان...
Ummah Post
13 November, 2021

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ اپنے کسی سفر میں روانہ ہوۓ، جب گرمی بہت محسوس ہوئی تو پگڑی منگوائی اور باندھ لی پھر فوراﹰ اتارڈالی ـ ان سے عرض کیا گیا: اے امیر المومنین! آپ نے اسے کیوں اتار دیا ہے؟ اس نے تو آپ کو گرمی سے بچانا تھا۔ فرمایا: مجھے کچھ اشعار یاد آ گئے تھے جن کو پرانے زمانہ کے لوگوں نے کہا ہے وہ اشعار یہ ہیں ۔

عربی اشعار کا ترجمہ :

❶ وہ آدمی جس کے چہرے کو دھوپ لگتی ہے یا غبار پڑتا ہے تو اس کے عیب دار اور پراگندہ ہونے سے ڈرتا ہے ـ

❷ اور سایہ ڈھونڈتا ہے تاکہ اس کی ترو تازگی قائم رہے ـ یہ عنقریب ایک دن قبر میں خاک آلود ہوگا ـ

❸ ایسے تاریک گڑھے میں غبار آلود اور وحشت میں ہوگا اور تحت الثری ( ساتوں زمینوں کے نیچے مقام سجین میں جہاں کافروں اور بدکاروں کی روحیں ڈالی جاتی ہیں، میں طویل عرصہ گزارے گا ـ

(فائدہ) مذکورہ اشعار کے ساتھ علامہ ذہنی رح نے یہ شعر بھی ذکر کیا ہے :

ترجمہ : اے نفس ردی ہونے سے پہلے ( آخرت کی) تیاری کرلے،جہاں تو نے ( ہر حال میں) پہنچنا ہے تو فضول نہیں پیدا کیا گیا ـ

Share this article
ملازمت اور بزنس کا فلسفہ
مضامین

ملازمت اور بزنس کا فلسفہ

ایک بڑی کمپنی کے گیٹ کے سامنے ایک مشہور سموسے کی دکان تھی ۔ لنچ ٹائم میں اکثر کمپنی کے ملازم وہاں آکر سموسے کھایا کرتے تھے ۔ ایک دن کمپنی کا ایک منیجر، سموسے کھاتے کھاتے سموسے والے سے مذاق کے موڈ میں آگیا۔ منیجر صاحب نے سموسے والے سے کہا : یار شاہد! اپنی دکان تم نے بہت اچھی طرح سے سیٹ کی ہے ، لیکن...