عربی پنجم

الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الثالث
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الثالث
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الرابع
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الرابع
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الخامس
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الخامس
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء السادس
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء السادس
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء السابع
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء السابع
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الثامن
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الثامن
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء التاسع
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء التاسع
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء العاشر
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء العاشر
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الحادی عشر
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الحادی عشر

​​​​ابو حازم ؒ کی حق گوئی کی تاثیر

​​​​ابو حازم ؒ کی حق گوئی کی تاثیر

سلیمان بن عبدالملک نے جو بنو امیہ کا بادشاہ تھا ـ ایک مرتبہ شیخ الحدیث ابو حازم ؒ سے دریافت کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟... کہ ہم لوگ دنیا کو پسند اور آخرت کو ناپسند کرتے ہیں ـ آپ نے برجستہ جواب دیا... کہ تم لوگوں نے دنیا کو آباد کیا... اور آخرت کو برباد کیا... اس لئے تم لوگ آبادی سے ویرانے کی طرف جانے سے گھبراتے ہو ـ پھر سلیمان نے پوچھا... کہ کاش ہم کو معلوم ہوجاتا کہ آخرت میں ہمارا کیا حال ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ قرآن پڑھ لو... تمہیں معلوم ہوجائے گا ـ سلیمان نے کہا کہ کون سی آیات پڑھوں؟ آپ نے فرمایا کہ ( اِنَّ الْاَبْـرَارَ لَفِىْ نَعِـيْمٍ ،وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِىْ جَحِـيْمٍ) یعنی نکوکار یقیناﹰ جنت میں اور بدکار یقینًا جہنم میں ہوں گے ـ پھر سلیمان نے یہ دریافت کیا... کہ دربار الٰہی میں بندوں کی حاضری کا کیا منظر ہوگا؟ آپ نے جواب دیا... کہ نیکوکار کا تو یہ حال ہوگا... کہ جیسے برسوں کا بچھڑا ہوا مسافر خوشی خوشی اپنے اہل و عیال میں آتا ہے... اور بدکاروں کا یہ حال ہوگا... کہ جیسے بھاگا ہوا غلام گرفتار کرکے آقا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے... شیخ ابو حازمؒ کی یہ حق گوئی تاثیر کا تیر بن کر سلیمان کے قلب میں پیوست ہوگئی... اور وہ چیخ مار کر رونے لگا ـ (حوالہ :- روح البیان ج ۵ ص ۲۵۳) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : اللہ والوں کی دنیا سے بے رغبتی کے ۲۰۰ واقعات (صفحہ نمبر ۴۴۴ ) مصنف : مولانا ارسلان بن اختر انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

Naats