اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہوتے ہی سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ 120 ارکان والی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہے، لیکن کسی بھی اتحاد کو یہ جادوئی عدد نہیں ملا۔ اس کے بعد جمعرات کو ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔
نیتن یاہو کی رہائش گاہ کا گھیراؤ
ہجوم نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی رہائش گاہ کو گھیر لیا اور فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے غزہ جنگ کو فوراً ختم کرنے کے نعرے بھی لگائے۔
کئی اہم سڑکیں بند کی گئیں، نیتن یاہو کے انتخابی پوسٹر پاؤں تلے روندے گئے اور پولیس کے ساتھ تلخ جھڑپیں ہوئیں۔
مظاہرین نہ صرف نیتن یاہو کو ہٹانا چاہتے ہیں، بلکہ اپوزیشن پر دباؤ بھی ڈال رہے ہیں کہ وہ ’عرب قیادت‘ والی جماعتوں کے ساتھ مل کر مشترکہ یہودی-عرب حکومت بنائے۔
اپوزیشن رہنما کے گھر کے باہر بھی دھرنا
مرکزی اپوزیشن اتحاد کے رہنما اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کے گھر کے باہر بھی زوردار مظاہرہ ہوا۔ مظاہرین کے پلے کارڈز پر لکھا تھا، ”عرب اور یہودی، صرف مل کر ہی ہم جیتیں گے۔“ تل ابیب-یافا کے ڈپٹی میئر امیر بدران بھی اس میں شریک ہوئے اور اپوزیشن سے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے کو کہا۔ ہجوم نے دائیں بازو کے رہنما اتامار بن گویر کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ ”بن گویر ہار چکے ہیں“ اور ملک کو نسلی امتیاز کی جگہ مشترکہ جمہوریت کی راہ پر چلنا ہوگا۔
100 فیصد گنتی کے بعد کیا تصویر ہے؟
نیتن یاہو کا دائیں بازو کا بلاک: 53 نشستیں
آئزنکوٹ کا اپوزیشن بلاک: 48 نشستیں
عرب جماعتیں (کنگ میکر): ریکارڈ 19 نشستیں
اگر اپوزیشن نیتن یاہو کو حکومت بنانے سے روکنا چاہتی ہے، تو اسے 19 عرب ارکانِ پارلیمنٹ کی حمایت لینی ہی ہوگی۔ لیکن اسے خدشہ ہے کہ ایسا کرنے پر اس کا ووٹ بینک ٹوٹ سکتا ہے۔