عربی سوم

شرح الرضی علی الکافیہ الجزء الاول
شرح الرضی علی الکافیہ الجزء الاول
شرح الرضی علی الکافیہ الجزء الثانی
شرح الرضی علی الکافیہ الجزء الثانی
شرح الرضی علی الکافیہ الجزء الثالث
شرح الرضی علی الکافیہ الجزء الثالث
شرح الرضی علی الکافیہ الجزء الرابع
شرح الرضی علی الکافیہ الجزء الرابع
تلخیص الفرائض علی السراجی
تلخیص الفرائض علی السراجی
الشریفیۃ شرح السراجیۃ
الشریفیۃ شرح السراجیۃ
تھذیب خلاصۃ الدلائل و تنقیح المسائل فی شرح القدوری و معہ حاشیۃ غایۃ المسائل
تھذیب خلاصۃ الدلائل و تنقیح المسائل فی شرح القدوری و معہ حاشیۃ غایۃ المسائل
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الاول
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الاول
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الثانی
الغایۃ في شرح الہدایہ الجزء الثانی

​​عبرت و بصائر

​​عبرت و بصائر

❶ ایک زاہد کا قصہ منقول ہے کہ وہ روٹی کے بغیر سبزی اور نمک وغیرہ کھالیتے ـ کسی نے کہا کہ بس آپ اسی پر گزارہ کرتے ہیں؟ فرمانے لگے میں اپنی دنیا جنت کے لئے بنا رہا ہوں اور تو اسے بیت الخلا کے لئے بناتا ہے، یعنی تو مرغوب کھانے کھا کر بیت الخلا تک پہنچاتا ہے اور میں جو کچھ بھی کھاتا ہوں وہ اس لئے کہ عبادت و طاعت کے لئے سہارا بنے اور آخرکار جنت تک پہنچ سکوں ـ ❷ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن ادھم رحمتہ اللہ علیہ حمام میں جانے لگے تو حمام والے نے روک دیا اور کہنے لگا کہ اجرت کے بغیر نہیں جاسکتے ـ آپ رو کر کہنے لگے اے اللہ! شیاطین اور فساق لوگوں کے آنے کا مقام ہے اور مجھے یہاں مفت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملتی تو میں انبیاء اور صدیقین کے مقام یعنی جنت میں کیسے داخل ہوسکوں گاـ؟ ❸ منقول ہے کہ بعض انبیاء علیہم السلام کی آسمانی تعلیمات اور وحی میں یہ بات ملتی ہے کہ اے ابن آدم! تو دوزخ کو بھاری قیمت سے خریدتا ہے مگر جنت کو سستے داموں نہیں لیتا ـ جس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک فاسق آدمی اپنے جیسے فاسقوں کی دعوت کرتا ہے اور اس پر سینکڑوں روپے کا خرچ بھی معمولی سمجھتا ہے تو یہ اس کا دوزخ کا سودا ہے جو بھاری قیمت پر حاصل کیا ـ اگر وہ اللہ کی رضا کے لئے ایک درہم خرچ کرکے بعض محتاجوں کی دعوت کرنا چاہے تو اسے شاق گزرتا ہے، جب کہ یہی اس کے لئے جنت کی قیمت تھی ـ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : تنبیہ الغافلین (صفحہ نمبر ۸۸-۸۹ ) مصنف : نضر بن محمد ابراہیم ابوالیث السمرقندی منتخب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

Naats