عربی ہفتم دورہ حدیث شریف

تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الاول
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الاول
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الثانی
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الثانی
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الثالث
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الثالث
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الرابع
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الرابع
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الخامس
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الخامس
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء السادس
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء السادس
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء السابع
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء السابع
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الثامن
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء الثامن
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء التاسع
تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذی الجزء التاسع

سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں

سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو اس نے ایک ایسے بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رہا تھا ۔ بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا : سردی نہیں لگتی ہے تمھیں ؟ دربان نے جواب دیا : بہت لگتی ہے حضور مگر کیا کروں ، گرم وردی نہیں ہے میرے پاس ، اِس لیے برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ بادشاہ: میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ہی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمھارے لیے ۔ دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کیا اور بہت تشکر کا اظہار کیا. لیکن بادشاہ جیسے ہی اپنے گرم محل میں داخل ہوا ، دربان سے کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔ صبح دروازے پر اس بوڑھے دربان کی اکڑی ہوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹی پر اس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی ہوئی یہ تحریر بھی : بادشاہ سلامت ! میں کئی برسوں سے سردیوں میں اسی نازک وردی میں دربانی کرتا آرہا تھا مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔ سبق : سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اور امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے پر جینا شروع کیجیے ۔ سہاروں کی بیساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزمائیں۔ ______________📝📝📝______________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

Naats