عربی دوم

شرح ہدایت النحو
شرح ہدایت النحو
ارشاد النحو شرح اردو ہدایت النحو
ارشاد النحو شرح اردو ہدایت النحو
السقایہ علی شرح الوقایہ
السقایہ علی شرح الوقایہ
تلخیص الانوار لحل تقسیمات نور الانوار
تلخیص الانوار لحل تقسیمات نور الانوار
سراج الوقایہ شرح اردو شرح الوقایہ
سراج الوقایہ شرح اردو شرح الوقایہ
شرح الوقایہ
شرح الوقایہ
احسن الوقایہ شرح اردو شرح وقایہ
احسن الوقایہ شرح اردو شرح وقایہ
توضیحات_شرح_علم_الصیغہ
توضیحات_شرح_علم_الصیغہ
علم_الصیغہ
علم_الصیغہ

علم کا بدصورت عاشق :

علم کا بدصورت عاشق :

اصل نام عمرو بن محبوب تھا ، ۱۶۰ ہجری میں پیدا ہوئے اور جاحظ کے لقب سے معروف ہوئے ، عربی میں جاحظ اُسے کہتے ہیں جس کی آنکھوں کے ڈھیلے اُبھرے ہوں ۔ اوائل میں اس لقب کو ناپسند کرتے تھے ، رفتہ رفتہ خاموش ہو گئے ۔ شاید ہی کسی کی شکل کا یوں مذاق اڑایا گیا ہو ، کسی نے انہیں شیطان سے تشبیہ دی ہے اور کسی شاعر نے تو یونہی بھی کہا ہے : اگر خنزیر دوبارہ مسخ کر دیا جائے پھر بھی جاحظ سے کم ہی بدصورت ہوگا ۔ بادشاہ متوکل نے انہیں اپنے بچوں کا استاد مقرر کرنا چاہا ، شکل دیکھی تو انکار کر دیا ۔ حالانکہ معتزلی فکر سے وابستہ تھے ، اس کے باوجود عربی ادب کے امام گردانے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے : جاحظ نے جس کتاب کو پکڑ لیا اسے مکمل پڑھنے تک نیچے نہیں رکھا ۔ اکثر کتابوں کی دکانیں کرائے پر لے کر رات رات بھر پڑھتے رہتے تھے ۔ آخری عمر میں کافی بیماریوں کا شکار ہوئے ، آدھا جسم مفلوج ہو گیا ، یونہی پڑھنے میں مصروف تھے کہ ارد گرد پڑی کتابیں ان پر آگریں اور یوں علم کا بدصورت عاشق کتابوں کے قبرستان میں دفن ہو گیا ۔ (علی سنان)

Naats