آیۃ القران

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ(۱۳)(سورۃ المؤمن)
ترجمہ : وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا اور تمہارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ اور نصیحت تو وہی مانا کرتا ہے جو (ہدایت کے لیے دل سے رجوع ہو۔(۱۳)(آسان ترجمۃ القران)

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مدرسین کو چاہئے کہ ہر طالب علم کو پورا عربی پڑھانا ضروری نہ سمجھیں ، جس کے اندر مناسبت دیکھیں ، اور فہم سلیم پائیں ، اس کو سب کتابیں پڑھادیں ، اور جس کو مناسبت نہ ہو ، یا فہم سلیم نہ ہو ، اس کو بقدر ضرورت مسائل پڑھا کر کہہ دیں کہ جاؤ دنیا کے دھندے میں لگو ، تجارت وحرفت کرو ، کیوں کہ ہر شخص مقتدا بننے کے لائق نہیں ہوتا ، بعضے نالائق بھی ہوتے ہیں ، ایسوں کو فارغ التحصیل بنا کر مقتدا بنا دینا خیانت ہے ۔ ایسے لوگوں کے لئے ایک مقدار معین کر لینا چاہیے کہ اس سے آگے ان کو نہ پڑھایا جائے ، اور وہ مقدار ایسی ہو جو دین کے ضروری مسائل جاننے کے لئے کافی ہو ۔ ( تعمیم التعلیم ، التبلیغ ۔ ص ۲۱۲ ۔ ص ۱۶۱ ۔ ج۲۱ )

Image 1

Naats