آیۃ القران

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِ(۲۷)(سورۃ ص)
ترجمہ : اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان جو چیزیں ہیں ان کو فضول ہی پیدا نہیں کردیا۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے، چنانچہ ان کافروں کے لیے دوزخ کی شکل میں بڑی تباہی ہے۔(۲۷)(آسان ترجمۃ القران)

عربی اَدب سے ایک حکایت

عربی اَدب سے ایک حکایت

ایک آدمی کئی راتیں سخت سردی میں آرام سے سوتا رہا۔ایک دن کسی راہگیر نے گزرتے ہوئے اسے کہا : " میں تمہیں ایک گرم رضائی لا کر دوں گا"!! وہ راہگیر اپنی منزل کو چلا گیا اور رضائی لانے کا وعدہ بھول گیا ، بوڑھا آدمی اس کا انتظار کرتے ہوئے سردی سے مر گیا۔لوگوں کو اس کی لاش کے پاس ایک مخطوط رقعہ ملا۔اس پر یہ الفاظ لکھے تھے : " میں نے تمہارے آنے سے پہلے کئی رات سردی برداشت کی کیونکہ میرے پاس کوئی اور آسرا نہیں تھا مگر تمہاری بات نے مجھے ایک امید دلا کر اسے میرا آسرا بنا دیا اور میں نے تم پر امید لگا کر اپنی قوت کھو دی۔چناچہ...سردی نے مجھے مار ڈالا"۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بات اور وعدے کو ہمیشہ پورا کرو۔اور جب بولو تو الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرو۔اگر تمہاری امید کسی کو تسلی اور سہارا دے سکتی ہے تو اسے توڑ بھی سکتی ہے۔

Image 1

Naats