محقق مسئلہ

با جماعت نماز میں بالکل سیدھے اس طرح مل کر کھڑے ہوں کہ ایک دوسرے کے بازو ملے ہوں درمیان میں کوئی خلا و فرجہ نہ رہے۔ (۱) عن نعمان بن بشير قال : كان رسول الله الله يسوى صفوفنا حتى كانما يسوى بها القداح - الحديث ( صحیح مسلم) ترجمہ: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفوں کے سیدھے کرنے میں اس قدر اہتمام فرماتے تھے گویا ان صفوں سے تیر سیدھے کئے جائیں گے۔(مسائلِ نماز/ص:۸)

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

مدرسین کو چاہئے کہ ہر طالب علم کو پورا عربی پڑھانا ضروری نہ سمجھیں ، جس کے اندر مناسبت دیکھیں ، اور فہم سلیم پائیں ، اس کو سب کتابیں پڑھادیں ، اور جس کو مناسبت نہ ہو ، یا فہم سلیم نہ ہو ، اس کو بقدر ضرورت مسائل پڑھا کر کہہ دیں کہ جاؤ دنیا کے دھندے میں لگو ، تجارت وحرفت کرو ، کیوں کہ ہر شخص مقتدا بننے کے لائق نہیں ہوتا ، بعضے نالائق بھی ہوتے ہیں ، ایسوں کو فارغ التحصیل بنا کر مقتدا بنا دینا خیانت ہے ۔ ایسے لوگوں کے لئے ایک مقدار معین کر لینا چاہیے کہ اس سے آگے ان کو نہ پڑھایا جائے ، اور وہ مقدار ایسی ہو جو دین کے ضروری مسائل جاننے کے لئے کافی ہو ۔ ( تعمیم التعلیم ، التبلیغ ۔ ص ۲۱۲ ۔ ص ۱۶۱ ۔ ج۲۱ )

Image 1

Naats