محقق مسئلہ

آیت سجدہ کا علم نہ ہو تب بھی سجدہ واجب ہے؟ آیت سجدہ کو سرًّا پڑھنا مستحسن ہے اس لئے تالی کو اس کا خیال رکھنا چاہئے لیکن اگر کسی نے جہراً پڑھ دیا اور دوسروں نے سن لیا تو سجدہ تلاوت واجب ہو جاتا ہے خواہ اس آیت کا آیت سجدہ ہونا سامع کو معلوم ہو یا نہ ہو چونکہ سجدہ تلاوت کے واجب ہونے کے اسباب تین ہیں: (۱) تلاوت (۲) سماع (۳) اقتداء۔ ان اسباب میں سے کوئی ایک سبب بھی اگر متحقق ہو گیا تو سجدہ تلاوت واجب ہو جائے گا۔ نیز سماع میں یہ بھی تعمیم ہے کہ خواہ سننے کا ارادہ ہو یا نہ ہو بہر صورت سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے(کتاب : حبیب الفتاویٰ/ج:۲/ص:۲۴۱)

اداس نہ ہو کیونکہ ۔۔۔۔۔

اداس نہ ہو کیونکہ ۔۔۔۔۔

*ایک دن مولانا رومی رح اپنے گھر تشریف لے گئے اور دیکھا کہ انکا بیٹا اُداس بیٹھا ہے تو انہوں نے دریافت کیا کہ بیٹا اُداس کیوں ہو تو بیٹے نے جواب دیا کہ کچھ نہیں*۔ *اس پر مولانا رومی رح باہر گئے اور ایک بھیڑیے کی کھال اوڑھ کر آئے اور ڈرانے کے لئے غرانے لگ گئے۔ اس پر ان کا بیٹا ہنسا تو انہوں نے فرمایا:* *بیٹا بھیڑیا ایک جنگلی جانور ہے لیکن جب تم نے دیکھا کہ اس کے پیچھے تمہارا باپ تھا تو تم ڈرنے کی بجائے ہنسنے اور مسکرانے لگے، اسی طرح یہ جان لو تمام آزمائشوں اور سختیوں کے پیچھے تمہارا رب ہے۔* *جو تمہیں 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، وہ تمہیں کسی مشکل سے گزارنا چاہتا ہے تو اس کی حکمت کو تم نہیں سمجھ سکتے لیکن وہ بہتر جانتا ہے،* *وہ تمہیں کچھ سکھانا چاہتا ہے، مضبوط بنانا چاہتا ہے آنے والے وقت کے لئے, اس سے زیادہ سخت آزمائشوں کے لئے, اور جان لو وہ اسی کو آزماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔* منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

Image 1

Naats