محقق مسئلہ

بینک کے سودی پیسہ کے مصرف کی تفصیل؟ سود لینا، سود دینا، سود کی گواہی دینا باعث لعنت ہے "لعن رسول الله صلی الله علیه وسلم آکل الربا، وموکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء" لیکن اپنی جائز کمائی بغرض حفاظت اگر کسی شخص نے بینک میں رکھی تو اس پر ملنے والی سود کی رقم کو چھوڑا نہ جائے، لینے کے بعد اس کے مصرف میں اس کو صرف کرنا واجب ہے، اور اس کے مصارف تین ہیں : (۱) غیر واجبی ٹیکس میں دیدیا جائے ، (۲) بلا نیت ثواب فقراء مسلمین پر تقسیم کر دیا جائے، (۳) رفاہی کاموں میں خرچ کر دیا جائے لیکن ان مصارف ثلاثہ میں سے پہلے دو مصارف متفق علیہ ہیں اور تیسرا مصرف مختلف فیہ ہے اور متفق علیہ پر عمل کرنا اولی ہے مختلف فیہ سے ۔ (کتاب: حبیب الفتاویٰ/ج: ۵/ص: ۱۵۸)

علم کا بدصورت عاشق :

علم کا بدصورت عاشق :

اصل نام عمرو بن محبوب تھا ، ۱۶۰ ہجری میں پیدا ہوئے اور جاحظ کے لقب سے معروف ہوئے ، عربی میں جاحظ اُسے کہتے ہیں جس کی آنکھوں کے ڈھیلے اُبھرے ہوں ۔ اوائل میں اس لقب کو ناپسند کرتے تھے ، رفتہ رفتہ خاموش ہو گئے ۔ شاید ہی کسی کی شکل کا یوں مذاق اڑایا گیا ہو ، کسی نے انہیں شیطان سے تشبیہ دی ہے اور کسی شاعر نے تو یونہی بھی کہا ہے : اگر خنزیر دوبارہ مسخ کر دیا جائے پھر بھی جاحظ سے کم ہی بدصورت ہوگا ۔ بادشاہ متوکل نے انہیں اپنے بچوں کا استاد مقرر کرنا چاہا ، شکل دیکھی تو انکار کر دیا ۔ حالانکہ معتزلی فکر سے وابستہ تھے ، اس کے باوجود عربی ادب کے امام گردانے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے : جاحظ نے جس کتاب کو پکڑ لیا اسے مکمل پڑھنے تک نیچے نہیں رکھا ۔ اکثر کتابوں کی دکانیں کرائے پر لے کر رات رات بھر پڑھتے رہتے تھے ۔ آخری عمر میں کافی بیماریوں کا شکار ہوئے ، آدھا جسم مفلوج ہو گیا ، یونہی پڑھنے میں مصروف تھے کہ ارد گرد پڑی کتابیں ان پر آگریں اور یوں علم کا بدصورت عاشق کتابوں کے قبرستان میں دفن ہو گیا ۔ (علی سنان)

Image 1

Naats