محقق مسئلہ

غیروں کی دیکھا دیکھی مسلم معاشرے میں ایک یہ رسم بھی رواج پاچکی ہے کہ بعض ماڈرن وجدید تعلیم یافتہ گھرانوں میں میاں بیوی یوم نکاح ( شادی کی سال گرہ) کی یاد میں سیر سپاٹے اور تفریح کی غرض سے نکلتے ہیں ، ہوٹل میں ڈنر کرتے ہیں، آپس میں ایک دوسرے کو گفٹ وغیرہ دیتے ہیں، اور ہر سال اس کا اہتمام کرتے ہیں، جب کہ یہ کوئی اسلامی طریقہ یا شعار نہیں کہ اس کا اہتمام کیا جائے ، بلکہ یہ غیر مسلموں کی تقلید اور قابلِ مذمت عمل ہے، جو کئی ایک قباحتوں پر مشتمل اور فضول خرچی پر مبنی ہے، اس لیے اس رسم بد سے بہر صورت احتر از واجتناب ضروری ہے۔ (اہم مسائل/ج:۹/ص:۲۷۷)

ایک رات کی کہانی

ایک رات کی کہانی

ایک آدمی نے حاتم طائی سے پوچھا : اے حاتم ! کیا سخاوت میں کوئی تم سے آگے بڑھا ہے ؟ حاتم نے جواب دیا : ہاں ! ... قبیلہ طے کا ایک یتیم بچہ مجھ سے زیادہ سخی نکلا جس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ دوران سفر میں شب بسری کیلیے ان کے گھر گیا ، اس کے پاس دس بکریاں تھیں ، اس نے ایک ذبح کی ، اس کا گوشت تیار کیا اور کھانے کیلئے مجھے پیش کر دیا اس نے کھانے کیلیے مجھے جو چیزیں دیں ان میں مغز بھی تھا، میں نے اسے کھایا تو مجھے پسند آیا میں نے کہا : واہ سبحان اللہ ! کیا خوب ذائقہ ہے ! یتیم بچہ فوراً باہر نکل گیا اور ایک ایک کر کے تمام بکریاں میری لا علمی میں اس نے ذبح کر ڈالیں اور سب کے مغز مجھے پیش کیے جب میں کوچ کرنے لگا تو کیا دیکھا کہ گھر کے ارد گرد ہر طرف خون ہی خون بکھرا پڑا ہے۔ میں نے اس سے کہا : آپ نے تمام بکریاں کیوں ذبح کیں ؟ اس نے کہا : واہ ، سبحان اللہ ! ... آپ کو میری کوئی چیز اچھی لگے اور میں اس پر بخل کروں ، یہ عربوں کی لیے بدترین گالی ہے حاتم سے پوچھا گیا : بدلے میں آپ نے اسے کیا دیا ؟ ... انہوں نے کہا : تین سو سرخ اونٹنیاں اور پانچ سو بکریاں ! ان سے کہا گیا : تو پھر آپ اس سے بڑے سخی ہوئے ! حاتم طائی نے جواب دیا : نہیں ...! وہ مجھ سے زیادہ سخی ہے ، کیونکہ اس نے اپنا سب کچھ لٹا کر سخاوت کی جبکہ میں نے تو اپنے بہت سے مال میں سے تھوڑا سا خرچ کر کے سخاوت کی ہے۔ ___________📝📝📝___________ منقول - ناقل: اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

Image 1

Naats