محقق مسئلہ

امتحان میں نقل کرنا یا کروانا امتحان کا مقصود، نصاب سے مطلوب، طلباء کی استعداد وصلاحیت کو جانچنا اور پرکھنا ہے، اس لیے کسی طالب علم کا بحالت امتحان کسی کی جوابی کاپی دیکھ کر نقل کرنا یا کروانا، یا اپنے ساتھ جوابی تحریر لے جانا، احکام انتظامیہ کی خلاف ورزی ممتحن کے ساتھ دھوکہ دہی، اور جھوٹ و خیانت جیسی عظیم قباحتوں کا موجب ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور سخت گناہ ہے۔ (اہم مسائل/ج:۱/ص:۱۶۲)

اداس نہ ہو کیونکہ ۔۔۔۔۔

اداس نہ ہو کیونکہ ۔۔۔۔۔

*ایک دن مولانا رومی رح اپنے گھر تشریف لے گئے اور دیکھا کہ انکا بیٹا اُداس بیٹھا ہے تو انہوں نے دریافت کیا کہ بیٹا اُداس کیوں ہو تو بیٹے نے جواب دیا کہ کچھ نہیں*۔ *اس پر مولانا رومی رح باہر گئے اور ایک بھیڑیے کی کھال اوڑھ کر آئے اور ڈرانے کے لئے غرانے لگ گئے۔ اس پر ان کا بیٹا ہنسا تو انہوں نے فرمایا:* *بیٹا بھیڑیا ایک جنگلی جانور ہے لیکن جب تم نے دیکھا کہ اس کے پیچھے تمہارا باپ تھا تو تم ڈرنے کی بجائے ہنسنے اور مسکرانے لگے، اسی طرح یہ جان لو تمام آزمائشوں اور سختیوں کے پیچھے تمہارا رب ہے۔* *جو تمہیں 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، وہ تمہیں کسی مشکل سے گزارنا چاہتا ہے تو اس کی حکمت کو تم نہیں سمجھ سکتے لیکن وہ بہتر جانتا ہے،* *وہ تمہیں کچھ سکھانا چاہتا ہے، مضبوط بنانا چاہتا ہے آنے والے وقت کے لئے, اس سے زیادہ سخت آزمائشوں کے لئے, اور جان لو وہ اسی کو آزماتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔* منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

Image 1

Naats

Recent Articles