`بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ` ‎ ‎•┈┈┈┈••✦✿✦••┈┈┈┈• ‎*❂_ Log Kehte hai'n k Sach Kadwa Hota hai Magar Haqeeqat ye hai K Sachchayi Khud Takleef dah Nahi Hoti Balki Use Pesh Karne Ka Andaz aur Lehja Agar Sakht Ho to Wo Doosro Ko Chubhta hai, Sach Bole'n magar Ese k Dil bhi Jeete aur Baat bhi Asar Kare _,* ‎ •••✦✿✦•••‎ *لوگ کہتے ہیں کہ سچ کڑوا ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سچائی خود تکلیف دہ نہیں ہوتی بلکہ اسے پیش کرنے کا انداز اور لہجہ اگر سخت ہو تو وہ دوسروں کو چبھتا ہے۔ سچ بولیں مگر ایسے کہ دل بھی جیتیں اور بات بھی اثر کرے _,* ‎ ‎*❂ _People say that the truth is bitter, but the truth itself is not painful, but rather the way and tone of presenting it is harsh, then it stings others. Speak the truth, but in such a way that it wins hearts and makes an impact _,* ‎ •••✦✿✦••• ‎*❂_ लोग कहते हैं कि सच कड़वा होता है मगर हक़ीक़त ये है कि सच्चाई खुद तकलीफ़ दह नहीं होती बल्कि उसे पेश करने का अंदाज़ और लहजा अगर सख्त हो तो वो दूसरों को चुभता है, सच बोलें लेकिन ऐसे कि दिल भी जीतें और बात भी असर करे_,* ‎*━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─* ‎ ‎> - *یہ میسیج واٹساپ پر براڈکاسٹ کے ذریعے حاصل کرنے کے لئے آپ رابطہ کر سکتے ہیں* ‎> +91 9084646374 `Israeel Fani Araria` ✍🏻 ‎ ‎*━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─* ‎

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

غلطی کا احساس دلانا

غلطی کا احساس دلانا

نبی کریمﷺ کی تربیت کا ایک طریقہ یہ تھا کہ پہلے غلطی کا احساس دلاتے تھے، پھر نصیحت فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ صحابہ کرام کی مجلس میں تشریف فرما تھے، ایک نوجوان مسجد میں داخل ہوا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا، گویا کسی کی تلاش میں ہے، اسے رسول اللہﷺ دکھائی دئیے،وہ آپ کی طرف آیا اور کہنے لگایا رسول اللہﷺ! مجھے زنا کی اجازت دیجئے، غور فرمائیے کہ اس نے کتنی بڑی جرأت کی، لیکن قربان جائیے معلم انسانیتﷺ پر کہ آپ پر ذرہ برابر خفگی کے آثار دکھائی نہیں دئیے اگر آپﷺ کی جگہ آج کے دور کا کوئی مربی ہوتا تو پتہ نہیں کیا کر گذرتا، اس نوجوان کے اس قسم کے سوال پر آپﷺ نے اس کی دینی حالت کو بھانپ لیاکہ یہ دینی اعتبار سے کمزور نوجوان ہے لیکن اس کے اندر پائے جانے والے ایمان نے اسے اجازت لینے پر آمادہ کیا، آپ نے اس نوجوان کو فوری نصیحت فرمائی، بلکہ پہلے اسے غلطی کا احساس دلایا،چنانچہ آپﷺ نے اس نوجوان سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنی والدہ کے ساتھ زنا کیا جانا پسند ہے؟ اس نے کہا نہیں تو آپﷺ نے فرمایا اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنی مائوں کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر دریافت کیا کہ کیا تم اپنی بیٹی کے لئے زنا کو پسند کرتے ہو؟ جوان نے کہا نہیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ دوسرے لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لئے زنا کو پسند نہیں کرتے، آپﷺ نے پھر پوچھا کہ کیا تم اپنی بیوی یا خالہ کے لئے زنا کو پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا نہیں ، بالآخر آپﷺ نے فرمایاکہ: لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو، جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو، اس طرح کے سوالات کا مقصد اس کو غلطی کا احساس دلانا تھا، جب اس نوجوان کو اپنی غلظی کا ادراک ہوگیا تو آپﷺ نے اس کے سینہ پر ہاتھ رکھا اور دعا کی اے اللہ اس کے دل کو ہدایت دے، اس کا گناہ معاف کر اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت کر، وہ نوجوان یہ کہتا ہوا مسجد سے باہر آیا،’’ بخدا میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا تو کوئی کام مجھے زنا سے زیادہ پسندیدہ نہیں تھا اور اب حالت یہ ہے کہ کوئی کام مجھے زنا سے بڑھ کر ناپسند نہیں ‘‘۔ (مسند احمد حدیث نمبر ۲۱۷۰۸) ___________📝📝___________ کتاب : موجودہ حالات میں سیرت رسول ﷺ کا پیغام صفحہ نمبر : ۲۵۸ ۔ ۲۵۸ پسند فرمودہ : حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی انتخاب : اِسلامک ٹیوب پرو ایپ