*ایک لرزتا ہاتھ، ایک کانپتی لاٹھی، اور ان آنکھوں میں وہ سوال جو کسی کو نظر نہیں آتا* — "کیا ہم واقعی اتنے *بےبس* ہو گئے؟" یہ وہی ہاتھ ہیں جنہوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا۔ وہی قدم جو راتوں کو جاگ کر تمہارے لیے دوڑتے تھے، آج دروازے پر تمہاری راہ تک رہے ہیں۔ مگر تمہیں فرصت نہیں۔ تمہارے پاس دنیا کی ہر مصروفیت ہے، سوائے ان چہروں کو دیکھنے کے جو تمہاری ایک مسکراہٹ کو ترس رہے ہیں۔ ایک *سوکھی چھڑی* کم از کم گرنے سے بچا سکتی ہے، مگر وہ اولاد جو ماں باپ کے بڑھاپے کا سہارا نہ بنے، وہ چھڑی سے بھی بدتر ہے۔ وہ والدین جو جوانی میں تمہاری ہر ضد مانتے رہے، آج تمہاری بے حسی کے بوجھ تلے دبے سسک رہے ہیں۔ وقت پلٹتا ضرور ہے احتیاط کیجئے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ملا نصیر الدین کا مشوره

ملا نصیر الدین کا مشوره

ایک دن امیر تیمور لنگ در بار لگائے ہوا تھا۔ درباری مؤدبانہ طریق سے اپنی جگہوں پر کھڑے ہوئے تھے۔ تیمور نے خلفائے بغداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ” ان کے القاب بڑے پر شکوہ ہوتے ہیں۔ مثلاً مستقر بالله، واثق بالله، معتصم باللہ اور متوکل باللہ وغیرہ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی اس قسم کا کوئی لقب اختیار کروں ۔ درباریوں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق مختلف القابات تجویز کئے ..... جب ملا نصیر الدین کی باری آئی تو اس نے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کیا: ” ناچیز کے خیال میں حضور کا لقب نعوذ باللہ بہت موزوں رہے گا۔“ ( بحوالہ ماہنامہ ”ہما“ نئی دہلی : جنوری ۱۹۹۵ء ص ۷۷ )