احسان کا بدلہ

بنو قریظہ جو یہود کا ایک مشہور قبیلہ ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزوہ خندق میں کفار قریش کی مدد کی تھی ۔ مسلمانوں نے غزوہ خندق سے فارغ ہو کر بنو قریظہ پر حملہ کیا اور تقریباً سارے قبیلے کو گرفتار کر لیا۔ امام مغازی ابن اسحاق نے بنو قریظہ کے قیدیوں میں ایک قیدی زبیر بن باطا کا واقعہ لکھا ہے کہ اس نے زمانہ جاہلیت کی مشہور جنگ بعاث‘ میں انصار کے مشہور صحابی حضرت ثابتؓ بن قیس پر کچھ احسان کیا تھا۔ اس غزوہ کے وقت زبیر بن باطا بوڑھا ہو کر اندھا ہو چکا تھا۔ حضرت ثابتؓ اس کے پاس آئے اور کہا مجھے پہچانتے ہو؟ کہنے لگا مجھ جیسا آپ جیسے کو کیسے بھول سکتا ہے حضرت ثابتؓ نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آج آپ کے احسان کا بدلہ دوں ۔ کہنے لگا۔ ” ان الكريم يجزى الكريم“ حضرت ثابتؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور زبیر کی آزادی کی درخواست کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست پر اس کو آزاد کر دیا۔ حضرت ثابتؓ نے آکر اسے اطلاع دی۔ کہنے لگا ایسے بوڑھے کی حیات میں کیا مزہ جس کے اہل و عیال نہ ہوں ، حضرت ثابتؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے اہل وعیال کی آزادی کا پروانہ حاصل کیا، اور آکر اسے بتایا تو کہنے لگا۔ حجاز میں اہل خانہ ہو لیکن مال نہ ہو تو گزران زندگی کیسے ممکن ہے۔ حضرت ثابت نے جا کر اس کا مال بھی واپس کرا دیا ۔ اب وہ اندھا یہودی حضرت ثابتؓ سے پوچھنے لگا کعب بن اسد کا کیا ہوا۔ انہوں نے فرمایا کہ قتل ہو گیا۔ پھر پوچھا حی بن اخطب اور اعزال بن شموال کا کیا بنا؟ انہوں نے فرمایا وہ بھی قتل کر دئے گئے۔ اس نے پوچھا کہ باقی لوگوں کا کیا حشر ہوا حضرت ثابتؓ نے کہا سب قتل کر دئیے گئے ، تو بوڑھے یہودی نے حضرت ثابت سے کہا کہ میرے احسان کا بدلہ یہ ہے کہ آپ مجھے بھی میری قوم کے ساتھ ملا دیں کہ ان کے بعد زندگی میں کیا خیر ہے حضرت ثابتؓ نے اس کو آگے بڑھا دیا اور اس کی گردن بھی اڑادی گئی۔ جو تجھ بن نہ جینے کا کہتے تھے ہم سو اس عہد کو ہم وفا کر چلے (سیرت ابن ہشام/ ج:۳) (کتاب : اسلاف کی یادیں۔ صفحہ نمبر: ۱۲۷۔۱۲۸ مصنف: حضرت مولانا مفتی اسد اللہ عمر نعمانی۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

میں وعدہ کرتا ہوں ماں ..!

میں وعدہ کرتا ہوں ماں ..!

یہ کہانی ڈاکٹر محمد راتب النابلسی کی ہے جو وہ اپنی ماں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن جب وہ چھوٹے تھے، ان کی ماں نے ان سے پوچھا: "کیا تم لفظ 'حلال' کہہ سکتے ہو بغیر اپنے ہونٹوں کو بند کیے؟" انہوں نے کوشش کی اور کامیابی کے ساتھ لفظ 'حلال' کہہ لیا بغیر اپنے ہونٹوں کو بند کیے۔ ان کی ماں نے خوش ہو کر ان کی تعریف کی اور انہیں چوم لیا۔ پھر ماں نے کہا: "کیا تم لفظ 'حرام' کہہ سکتے ہو بغیر اپنے ہونٹوں کو بند کیے؟" انہوں نے بہت بار کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر انہوں نے اداس ہو کر کہا: "نہیں ماں، میں نہیں کر سکتا، جتنی بھی کوشش کروں، آخر میں میرے ہونٹ خود بخود بند ہو جاتے ہیں۔" اس پر ان کی ماں ہنس پڑیں اور کہنے لگیں: "یہی فرق ہے حلال اور حرام میں، بیٹا۔ حرام ہمیشہ بندش اور تنگی کا باعث بنتا ہے، جبکہ حلال ہمیشہ خوشی اور آسانی کا باعث بنتا ہے۔ اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ تم اپنے لیے کون سا راستہ چنتے ہو، حلال جو دنیا اور آخرت کے دروازے کھول دیتا ہے یا حرام جو سب دروازے بند کر دیتا ہے اس دن کے بعد جب وہ کوئی غلط کام کرتے تھے تو ان کی ماں اپنے ہونٹوں کو بند کر لیتی تھیں، اور ان کے چہرے پر غم کی لہر چھا جاتی تھی۔ لیکن جب وہ کوئی اچھا کام کرتے تھے تو ماں مسکراتے ہوئے اپنے ہونٹ کھول دیتی تھیں اور کہتیں کہ اگر تم ہمیشہ اپنی ماں کی مسکراہٹ دیکھنا چاہتے ہو تو ہمیشہ حلال اور پاکیزہ راستہ اپناؤ۔ جب ڈاکٹر محمد بڑے ہوئے تو انہوں نے کبھی اپنی ماں کی مسکراہٹ کو کھونے کی کوشش نہیں کی۔ جب ان کی ماں کا انتقال ہوا اور وہ آخری الوداع کہنے اور آخری بوسہ دینے کے لیے ان کے پاس گئے تو انہوں نے اپنی ماں کو مسکراتے ہوئے پایا، ان کے ہونٹ کھلے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: "میں وعدہ کرتا ہوں ماں، میں ہمیشہ حلال کے راستے پر چلوں گا، اس کہانی کا مقصد یہ ہے کہ اپنے بچوں کو صرف یہ نہ سکھائیں کہ کچھ کام عیب ہیں، بلکہ یہ بھی بتائیں کہ یہ حلال اور حرام ہیں، یہ اللہ کو خوش کرتا ہے اور یہ اللہ کو ناراض کرتا ہے، تاکہ وہ اللہ کی خوشنودی کے لیے زندگی گزاریں، نہ کہ لوگوں کے خوف سے۔ [صدقہ جاریہ کے لیے یہ تحریر شئیر ضرور کریں] ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔