https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/8855_2026-10-31_islamictube.webp

G20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں تنازع: لاوروف کے ساتھ تصویر کھنچوانے سے یورپی سفارت کاروں کا انکار، ’فیملی فوٹو‘ منسوخ

اٹلانٹا میں ہو رہے G20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کی موجودگی کو لے کر تنازع کھڑا ہو گیا۔ یورپی سفارت کاروں نے ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے سے انکار کر دیا، جس کے بعد امریکی میزبانوں نے جمعہ کو ہونے والا پہلے سے طے شدہ ’فیملی فوٹو‘ منسوخ کر دیا۔ دو عہدیداروں نے BBC کو اس کی تصدیق کی۔ اجلاس کی صدارت امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کر رہے ہیں۔

امریکا نے کیا کہا؟

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق جب واضح ہو گیا کہ کچھ وفود مشترکہ تصویر میں شامل ہونے کو تیار نہیں ہیں، تو رسمی تصویر کو سفارتی رکاوٹ بننے دینے کے بجائے تصویر نہ لینے اور اہم مباحث پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

ملی بینڈ نے لاوروف سے دو ٹوک بات کی

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے روسی ہم منصب سے کہا، ”ہم سب جانتے ہیں کہ اس جنگ میں حملہ آور کون ہے۔“ انہوں نے یوکرین میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار روس کو ٹھہرایا اور کہا کہ اس جنگ سے توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے اور غذائی عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے معاشی اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی بات کہی۔ ایک برطانوی عہدیدار کے مطابق یوکرین پر حملے کے بعد سے روسی وزرا سے براہِ راست دوطرفہ رابطہ نہ رکھنا برطانیہ کی پرانی پالیسی ہے اور اسے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ یوکرین G20 کا رکن نہیں ہے اور اس اجلاس میں اسے مدعو بھی نہیں کیا گیا تھا۔

پولینڈ کو دعوت پر روس کا اعتراض

لاوروف نے کہا کہ پولینڈ کو اجلاس میں بلانا سفارتی روایت کے خلاف ہے، کیونکہ G20 میں فیصلے اتفاقِ رائے سے ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق پولینڈ کی معیشت اتنی بڑی نہیں کہ وہ اہلیت پوری کرے۔ ساتھ ہی اسے ’مشرقی یورپ‘ کا نمائندہ کہنا غلط ہے، کیونکہ NATO اور EU پہلے سے اس خطے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

پولینڈ کے وزیرِ خارجہ رادوسلاو سیکورسکی نے کہا کہ امریکا نے پولینڈ کو G20 کا مستقل رکن بنانے کی تجویز دی ہے اور وارسا اس کے لیے کوشاں ہے۔

امریکا-روس تعلقات میں نرمی، یوکرین ناراض

حالیہ ہفتوں میں امریکا-روس تعلقات جزوی طور پر بہتر ہوتے دکھائی دیے ہیں۔ ٹرمپ نے کچھ پابندیوں میں نرمی کی اور امریکی بازار کے لیے روسی ڈیزل کی درآمد کے معاہدے پر رضامندی ظاہر کی۔

یہ قدم ایسے وقت آیا ہے جب ٹرمپ منگل کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے پہلے امریکا میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنا چاہتے ہیں۔

یوکرین اور یورپی اتحادیوں نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ زیلنسکی نے اسے پوتن کے لیے ”تحفہ“ قرار دیا۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں رعایت کا مقصد ماسکو کو مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنا ہے۔

اس کے باوجود امریکی وزارتِ خارجہ نے اسی ہفتے یوکرین کو دو ارب ڈالر سے زیادہ کے پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری دی ہے۔

جنگ کی صورتحال

روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا اور فی الحال اس کے تقریباً پانچویں حصے پر کنٹرول رکھتا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اس نے کیف اور دیگر شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں۔