https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/2198_2026-10-31_islamictube.jpg

گجرات کی 29 غیر تسلیم شدہ پارٹیوں نے ایک سال میں ۵۱۰ کروڑ کمائے، لیکن ایک بھی سیٹ نہیں جیتی

ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کی نئی رپورٹ نے سیاسی فنڈنگ کی ایک حیران کن تصویر پیش کی ہے۔ مالی سال ۲۰۲۴-۲۵ میں گجرات کی ۲۹ رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں (آر یو پی پی) نے کل ۵۱۰.۴۱ کروڑ روپے کی آمدنی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک کے کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے سے سب سے زیادہ ہے۔

دہلی کی ۷۳ پارٹیوں نے ۲۱۸.۴۸ کروڑ اور راجستھان کی ۲۳ پارٹیوں نے ۱۷۳.۳۶ کروڑ روپے کی آمدنی بتائی۔ ان تین ریاستوں کی کل آمدنی ۹۰۲.۲۵ کروڑ روپے رہی، جو ملک بھر کی ۷۳۴ پارٹیوں کی طرف سے اعلان کردہ کل ۱,۱۱۸.۴۹ کروڑ روپے کا تقریباً ۸۰.۶۷ فیصد ہے۔

کروڑوں کی کمائی، لیکن الیکٹورل کامیابی صفر

رپورٹ کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ بھاری بھرکم آمدنی کے باوجود ان پارٹیوں کی الیکٹورل کارکردگی انتہائی کمزور رہی۔ مالی سال ۲۰۲۴-۲۵ میں سب سے زیادہ آمدنی کا اعلان کرنے والی ٹاپ ۱۵ پارٹیوں میں سے کسی نے بھی ایک سیٹ نہیں جیتی۔

۲۰۲۰-۲۱ سے ۲۰۲۴-۲۵ کے درمیان ان ۱۵ پارٹیوں نے کل ۳۵ سیٹوں پر الیکشن لڑا، لیکن کامیابی صرف ایک سیٹ تک محدود رہی۔

سب سے زیادہ آمدنی والی پارٹیوں میں گجرات کی نیو انڈیا یونائٹڈ پارٹی اور بھارتیہ قومی جنتانترک دل نیز راجستھان کی بھارتیہ غریب ترقی کلین پارٹی شامل ہیں۔ ان تینوں کی کل اعلان کردہ آمدنی ۶۶۰.۵۲ کروڑ روپے ہے، جو ٹاپ ۱۵ پارٹیوں کی کل آمدنی (۹۷۳.۹۳ کروڑ) کا ۶۷.۸۲ فیصد بنتا ہے۔

شفافیت کی کمی اور انکم ٹیکس چھوٹ

اے ڈی آر کے مطابق، یہ ۷۳۴ پارٹیاں ملک کی کل غیر تسلیم شدہ پارٹیوں کا صرف ۳۵ فیصد ہیں۔ باقی ۶۵ فیصد (تقریباً ۱,۳۳۰ پارٹیاں) کی سالانہ آڈٹ رپورٹ اور چندے کی تفصیل عوامی طور پر دستیاب نہیں ہے۔

قواعد کے مطابق سیاسی پارٹیوں کو انکم ٹیکس سے چھوٹ ملتی ہے، بشرطیکہ وہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں اور ۲۰,۰۰۰ روپے سے زیادہ کے چندے کی تفصیل الیکشن کمیشن کو دیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی پارٹی یہ اعلان کر دے کہ اسے کسی ایک عطیہ دہندہ سے ۲۰,۰۰۰ روپے سے زیادہ کا چندہ نہیں ملا، تب بھی اسے چھوٹ مل سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کی سختی

قابل ذکر بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے اگست-ستمبر ۲۰۲۵ میں دو مراحل میں ۸۰۸ غیر تسلیم شدہ پارٹیوں کو فہرست سے ہٹا دیا تھا۔ یہ پارٹیاں مسلسل چھ سال تک کوئی الیکشن نہ لڑنے کی وجہ سے کارروائی کے دائرے میں آئی تھیں۔ کمیشن نے انہیں وجہ بتائو نوٹس جاری کر کے اپنا موقف رکھنے کا موقع بھی دیا تھا۔

رپورٹ سے واضح ہے کہ بڑی تعداد میں غیر تسلیم شدہ پارٹیاں بھاری آمدنی کا اعلان کر رہی ہیں، لیکن الیکٹورل میدان میں ان کی موجودگی اور کامیابی نہ کے برابر ہے۔ اس سے سیاسی فنڈنگ اور شفافیت پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔