https://islamictube.in/new_site/public/images/news_images/5406_2026-11-01_islamictube.jpg

"مسلمان ہونے کی سزا مل رہی ہے": گرفتاری پر اعظم خان کا درد چھلک پڑا

جیل سے رہا ہوتے ہی ED نے کیا گرفتار: اعظم خان 14 دن کی عدالتی تحویل میں ڈاسنہ جیل منتقل

سماجوادی پارٹی (SP) کے سینئر رہنما اور سابق یوپی وزیر اعظم خان کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے غازی آباد کی خصوصی PMLA عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں ڈاسنہ جیل بھیج دیا گیا۔ پین کارڈ کیس میں ضمانت ملنے کے بعد وہ گزشتہ رات رامپور جیل سے رہا ہوئے تھے، لیکن باہر آنے کے بمشکل 15 منٹ کے اندر ED نے رامپور کی جوہر یونیورسٹی سے جڑے منی لانڈرنگ کیس میں انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا۔

اعظم خان کا درد اور دکھ

گرفتاری کے وقت جب میڈیا نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی تو اعظم خان نے مایوسی کے عالم میں کہا:

"اب بولنے کے لیے بچا ہی کیا ہے؟ قانون ختم ہو چکا ہے، مسلمان ہونے کی سزا مل رہی ہے۔ ہماری غلطی یہ تھی کہ ایک مسلمان نے یونیورسٹی بنائی اور ایسا کر کے ہم نے گناہ کر دیا۔ ہم نے بچوں کی تعلیم کے لیے اسکول بنائے، کیا یہ ہمارا گناہ ہے؟"

اکھلیش یادو کی شدید مذمت

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اس گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بی جے پی حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ED پہلے ہی جوہر یونیورسٹی کی کروڑوں روپے کی جائیداد کو ضبط (Attach) کر چکی ہے اور اب اعظم خان کو پھر سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اکھلیش یادو نے سوال اٹھایا کہ تحقیقی ایجنسیاں آخر کیا ثابت کرنا چاہتی ہیں اور وہ کیوں بی جے پی حکومت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر کام کر رہی ہیں۔

اعظم خان کے وکیل کے سنگین الزامات

اعظم خان کے وکیل ناصر سلطان نے بتایا کہ ان کے موکل کو جیل سے نکلتے ہی بغیر کسی وجہ کے اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اٹھا لیا گیا۔ ان کے مطابق کسی کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں کہاں اور کون لے جا رہا ہے۔ وکیل نے کہا:

"ہم نے پہلے کبھی جیل سے رہائی کے فوراً بعد اس طرح حراست میں لیتے نہیں دیکھا، یہ حکومت کے مکمل 'آمرانہ رویے' کا کھلا ثبوت ہے۔ تین دن کی سخت قانونی جدوجہد کے بعد انہیں ضمانت ملی تھی۔ دراصل 2027ء کے الیکشن قریب ہیں اور جنہیں اپنی شکست کا خوف ستارہا ہے، وہی یہ سب کروا رہے ہیں۔"

ED کا موقف

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کے مطابق جوہر یونیورسٹی کی تعمیر میں سرکاری فنڈز، سرکاری ٹھیکوں کی رقم اور تعمیراتی سامان کے مبینہ غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے ثبوت سامنے آئے ہیں، جس کی بناء پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔