تم تو صبرکے قائل تھے ، رضائے رب پر مائل تھے، پھر یہ شکایتیں کیسی؟ کہو یہ رنجشیں کیسی؟ ہاں انسانی فطرت میں بھی سمجھتی ہوں، کہ ایک گہرا دکھ تو ہوتا ہے، کئی آنسو مچلتے ہیں کئی شکوے پنپتے ہیں، اضطراب مسلسل ہے۔۔۔ کئی جذبوں کی ہلچل ہے۔۔۔ مگر ہر حال میں شکر ﷲ کا حلف جو تم نے اٹھایا تھا، کہو۔۔۔۔کیا اسکو نبھایا ہے؟ کیا رب سےبڑھ کر مخلص یہاں تم نے کسی کو پایا ہے؟



