*حضرت مولانا یوسف کاندھلویؒ فرمایا کرتے تھے:* دعوت دینے والے کی *روحانی طاقت* پانچ چیزوں میں ہے: 1. *مسواک کا استعمال* – جو منہ کی صفائی کے ساتھ دل کی روشنی بھی لاتا ہے۔ 2. *قرآنِ کریم کی تلاوت مصحف سے* – کہ آنکھوں سے الفاظ دیکھ کر پڑھنا دل پر اثر ڈالتا ہے۔ 3. *ہمیشہ باوضو رہنا* – طہارت دل و دماغ کو پاکیزگی دیتی ہے۔ 4. *نمازِ تہجد کا اہتمام* – جو بندے کو رات کے سکوت میں اللہ سے جوڑتی ہے۔ 5. *نگاہوں کی حفاظت* – جو دل کو گناہوں سے بچاتی ہے اور ایمان میں نور بھرتی ہے۔ مولاناؒ فرماتے: *جس نے اپنی نظر کو قابو میں رکھا، وہ ایمان کی مٹھاس چکھے گا اور اس کے دل میں نور پیدا ہوگا۔* اور اگر نظر کی حفاظت نہ کی تو یہ پانچ بڑے نقصان ہوں گے: 1. *نماز کی تکبیر اُولیٰ سے محرومی۔* 2. *نمازِ تہجد کی توفیق چھن جانا۔* 3. *رزق سے برکت کا ختم ہونا۔* 4. *قرآن اور دعائیں بھول جانا۔* 5. *بغیر ایمان کی حالت میں موت کا خطرہ زیادہ ہونا۔*

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک بزرگ کی لوگ ان کے منہ پر تعریف کر رہے تھے

ایک بزرگ کی لوگ ان کے منہ پر تعریف کر رہے تھے

مولانا فخر الحسن صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں مکہ معظمہ میں ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا لوگ ان کے منہ پر ان کی تعریف کر رہے تھے اور وہ خوش ہو رہے تھے۔ میں نے اپنے دل میں کہا یہ کیسے بزرگ ہیں جو اپنی تعریف سے مزے لے رہے ہیں ان کو اس خطرہ کی اطلاع ہو گئی فوراً جواب دیا کہ میری تعریف تھوڑی ہی ہے۔ میرے محبوب کی تعریف ہے کیونکہ ہمارا کمال سب ادھر سے ہی ہے مصنوع کی تعریف حقیقت میں صانع کی تعریف ہے کہ اس نے کس خوبی سے اس چیز کو بنایا ہے اس لیے میں محبوب کی تعریف پر خوش ہو رہا ہوں وہ کہنے لگے کہ مجھے پھر خطرہ ہوا کہ جب یہی بات ہے تو میرا یہ خطرہ بھی محبوب ہی کی طرف سے تھا اس پر اتنی ناگواری کیوں ہوئی ان کو اس پر بھی اطلاع ہو گئی فرمایا محبوب کی طرف بری باتوں کی نسبت کرنا بے ادبی ہے اب تو میں بہت گھبرایا کہ یہاں دل کو سنبھال کر بیٹھنا چاہیے یہ تو ہر خطرے پر مطلع ہو جاتے ہیں۔ واقعی اہل اللہ کے پاس بیٹھ کر برے خیالات سے دل کی حفاظت کرنا چاہیے کیونکہ ان کو گاہے خطرات پر بھی اطلاع ہو جاتی ہے جس سے ان کو ایذا ہوتی ہے۔ پیش اہل دل نگهدارید دل تا نباشید از گمان بد خجل اہل دل کے رو برو دل کی نگہداشت کرو تا کہ بد گمانی سے شرمندہ نہ ہو۔ (خطبات حکیم الامت جلد ۲۲/ ص: ۳۷۵، ۳۷۶) __________📝📝__________ (کتاب : جواہر خطبات صفحہ نمبر : ۲۹۳ تالیف : استاذ القراء قاری ضیاء الرحمن صاحب انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)