📝 ایک بوڑھے حاجی کی دل کو چھو لینے والی داستان ♦️ایک ضعیف العمر بزرگ ایک نوجوان کے ساتھ حج کے لیے نکلے۔ جب انہوں نے احرام باندھا اور "لَبَّیْک" (اے اللہ! میں حاضر ہوں) پکارا تو غیب سے آواز آئی: "لَا لَبَّیْک" (تیری حاضری قبول نہیں)۔ نوجوان حاجی نے حیران ہو کر پوچھا: "کیا آپ نے یہ جواب سنا؟" بوڑھے حاجی نے آنسو بہاتے ہوئے کہا: "ہاں، میں 𝟕𝟎 سال سے یہی جواب سن رہا ہوں۔ ہر بار میں 'لَبَّیْک' کہتا ہوں، اور جواب آتا ہے 'لَا لَبَّیْک'!" نوجوان نے کہا: "پھر آپ یہ تکلیف اٹھا کر کیوں آتے ہیں؟" بوڑھے نے روتے ہوئے جواب دیا: "پھر میں کس کے دروازے پر جاؤں؟ چاہے مجھے رد کر دیا جائے یا قبول کیا جائے، میں نے تو بس اسی کے در پر آنا ہے۔ اس کے سوا میری کوئی پناہ گاہ نہیں!" اِسی وقت غیب سے آواز آئی: "جاؤ! تمہاری تمام حاضریاں قبول کر لی گئیں!" •[تفسیر روح البیان ج.𝟏𝟎 ص.𝟏𝟕𝟔]

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے رجوع کی چند مثالیں

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے رجوع کی چند مثالیں

بہشتی زیور اور تعلیم الدین کے بعض مقامات کی اصلاح: (۱) بہشتی زیور میں عشاء کے بعد چار سنتیں لکھ دی ہیں، صحیح یہ ہے کہ دو سنت ہیں اور دو نفل ۔ (۲) بہشتی زیور میں ایام بیض ۱۲، ۱۳، ۱۴ تاریخوں کو لکھ دیا ہے، صحیح ۱۳، ۱۴ ، ۱۵ ہیں۔ (۳) تعلیم الدین اور بہشتی زیور میں تیجے، چالیسویں وغیرہ کے بدعت ہونے کے ذکر میں یہ لفظ لکھا گیا ہے "ضروری سمجھ کر کرنا" اس سے شبہ ہو سکتا ہے کہ شاید غیر ضروری سمجھ کر کرنا جائز ہو یہ قید واقعی تھی ، احترازی نہ تھی، حکم یہ ہے کہ خواہ کسی طرح سے کرے بدعت ہے۔ (۴) تعلیم الدین میں قبروں پر چراغ جلانے کے بارے میں یہ لفظ لکھا گیا ہے: ” کثرت سے چراغ جلانا “ اس میں بھی مثل مقام سوم کے سمجھنا چاہیے، حکم یہ ہے کہ ایک چراغ رکھنا بھی بدعت ہے۔ احباب سے دعا کی استدعا ہے کہ حق تعالیٰ میری خطا و عمد کو معاف فرمائے اور میری تقریرات و تحریرات کو اضلال کا سبب نہ بنائیں۔ (اشرف السوانح : ۱۳۵/۳، بوادر النوادر : ۴۲۸)