📝 ایک بوڑھے حاجی کی دل کو چھو لینے والی داستان 

♦️ایک ضعیف...
Ummah Post
13 June, 2025

📝 ایک بوڑھے حاجی کی دل کو چھو لینے والی داستان

♦️ایک ضعیف العمر بزرگ ایک نوجوان کے ساتھ حج کے لیے نکلے۔ جب انہوں نے احرام باندھا اور "لَبَّیْک" (اے اللہ! میں حاضر ہوں) پکارا تو غیب سے آواز آئی: "لَا لَبَّیْک" (تیری حاضری قبول نہیں)۔

نوجوان حاجی نے حیران ہو کر پوچھا: "کیا آپ نے یہ جواب سنا؟"

بوڑھے حاجی نے آنسو بہاتے ہوئے کہا:

"ہاں، میں 𝟕𝟎 سال سے یہی جواب سن رہا ہوں۔ ہر بار میں 'لَبَّیْک' کہتا ہوں، اور جواب آتا ہے 'لَا لَبَّیْک'!"

نوجوان نے کہا: "پھر آپ یہ تکلیف اٹھا کر کیوں آتے ہیں؟"

بوڑھے نے روتے ہوئے جواب دیا:

"پھر میں کس کے دروازے پر جاؤں؟ چاہے مجھے رد کر دیا جائے یا قبول کیا جائے، میں نے تو بس اسی کے در پر آنا ہے۔ اس کے سوا میری کوئی پناہ گاہ نہیں!"

اِسی وقت غیب سے آواز آئی:

"جاؤ! تمہاری تمام حاضریاں قبول کر لی گئیں!"

•[تفسیر روح البیان ج.𝟏𝟎 ص.𝟏𝟕𝟔]

Share this article
خواص میں نرم مزاجی کی ضرورت واہمیت
مضامین

خواص میں نرم مزاجی کی ضرورت واہمیت

اہل علم اور خواص کے طبقہ میں نرم مزاجی اور نرم خوئی از حد ضروری ہے۔ سخت لب ولہجہ میں بات کرنا اور کسی بات پر ناراض ہونا اگر تربیت اور اصلاح کے جذبہ سے ہو تو ظاہر ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم اگر اس کا منشا محض اپنے غصہ کی تسکین اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنا ہو تو یہ علماء اور خواص کی شان کے خلا...