📝 ایک بوڑھے حاجی کی دل کو چھو لینے والی داستان ♦️ایک ضعیف العمر بزرگ ایک نوجوان کے ساتھ حج کے لیے نکلے۔ جب انہوں نے احرام باندھا اور "لَبَّیْک" (اے اللہ! میں حاضر ہوں) پکارا تو غیب سے آواز آئی: "لَا لَبَّیْک" (تیری حاضری قبول نہیں)۔ نوجوان حاجی نے حیران ہو کر پوچھا: "کیا آپ نے یہ جواب سنا؟" بوڑھے حاجی نے آنسو بہاتے ہوئے کہا: "ہاں، میں 𝟕𝟎 سال سے یہی جواب سن رہا ہوں۔ ہر بار میں 'لَبَّیْک' کہتا ہوں، اور جواب آتا ہے 'لَا لَبَّیْک'!" نوجوان نے کہا: "پھر آپ یہ تکلیف اٹھا کر کیوں آتے ہیں؟" بوڑھے نے روتے ہوئے جواب دیا: "پھر میں کس کے دروازے پر جاؤں؟ چاہے مجھے رد کر دیا جائے یا قبول کیا جائے، میں نے تو بس اسی کے در پر آنا ہے۔ اس کے سوا میری کوئی پناہ گاہ نہیں!" اِسی وقت غیب سے آواز آئی: "جاؤ! تمہاری تمام حاضریاں قبول کر لی گئیں!" •[تفسیر روح البیان ج.𝟏𝟎 ص.𝟏𝟕𝟔]

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

بعض صالحین کے حالات وفات :

بعض صالحین کے حالات وفات :

​-------- ❶. عظیم محدث اور استاذ التعبیر امام محمد بن سیرین ؒ پر وفات کے وقت گریہ طاری تھا اور فرمارہے تھے کہ "مجھے گذشتہ زندگی کی کوتاہیاں اور جنت میں جانے والے اعمال میں کمی اور جہنم سے بچانے والے اعمال کی قلت پر رونا آرہا ہے"ـ ( کتاب العاقبته / 69) ❷. مشہور فقیہ اور محدث ابرہیم نخعی ؒ وفات کے وقت روتے ہوئے فرما رہے تھے "میں اپنے رب کے قاصد کا منتظر ہوں پتہ نہیں وہ مجھے جنت کی خوشخبری سنائے گا یا جہنم کی؟ " ـ ❸. حضرت ابو عطیہ المذبوح موت کے وقت گھبرانے لگے لوگوں نے کہا کیا موت سے گھبراتے ہیں؟ فرمایا: میں کیوں نہ گھبراؤ یہ تو ایسا وقت ہے کہ مجھے پتہ نہیں کہ مجھے کہاں لے جایا جائے (جنت یا جہنم) ـ ❹. حضرت فضیل بن عیاض پر وفات کے وقت غشی طاری ہوئی پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا "ہائے افسوس! سفر دور کا ہے اور توشـہ بہت کم ہے"ـ ( کتاب العاقبته / 70)