ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ انباکس ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺭﺩ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺪ ﺍﺯ ﺳﻼﻡ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ: ''ﺁﭖ "ﻋﻮﺭﺕ" ﺍﻭﺭ "ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﮮ" ﭘﮧ ﺑﮩﺖ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﭘﺮﺩﮦ ﺗﻮ ﺩﻝ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﻧﮯ/ ﭼﺒﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔؟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ : ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﭘﯿﭧ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮩﺎﮞ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ۔؟ ''ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ'' ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺗﻮ ﻣﯿﮟ بھی ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﺮﺩﮦ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺩﻝ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﺮ ﭘﮧ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ہے۔ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﻮﻟﯽ؛ ﮐﭽﮫ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺗﻮ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺍﻭﮌﮪ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ '' ﺑﺎﭘﺮﺩﮦ '' ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ ﭘﮭﺮ ۔؟؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻀﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﻗﮯ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻗﺼﻮﺭ ''ﭘﺮﺩﮮ'' ﺍﻭﺭ ''ﮐﮭﺎﻧﮯ'' ﮐﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﺴﺌﻠﮧ ''ﻣﻌﺪﮮ'' ﺍﻭﺭ '' ﺩﻝ ''ﻣﯿﮟ ﮨﮯ" منقول

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

عیسائیت کی ثقافتی یلغار!!

عیسائیت کی ثقافتی یلغار!!

جب تک عیسائی مذہب سیاست سے ہم آہنگ نہیں تھا، اُس وقت تک دُنیا کی ہر قوم کا اپنا ایک الگ لباس ہوتا تھا۔ اب بھی جہاں جہاں عیسائی مذہب کسی قوم کی سیاست پر اثر انداز نہیں ہوا وہاں اب بھی اس قوم کا اپنا ایک مخصوص قومی لباس ہے۔ جن ملکوں میں عیسائیت سیاست سے ہم آہنگ ہوکر پہنچی وہاں کا قومی لباس محمود غزنوی کے چہیتے غُلام ایاز کے "لباسِ غُلامی" کی طرح پُرانے صندوق میں چُھپا دیا گیا ہے، جو کبھی کبھار عید کے تہوار پر محض پُرانی یاد تازہ کرنے کے لیے نکالا جاتا ہے۔ چنانچہ عیسائیت کا لباس کوٹ پتلون اور نکٹائی اب ایک بین الاقوامی لباس بن گیا ہے جسے اب عیسائیوں کے علاوہ ہر مذہب، ہر مُلک اور ہر قوم کے باشندے پہنتے ہیں۔ جہاں تک کوٹ پتلون والے لباس کا تعلق ہے اُسے دیکھ کر کسی شخص کی قومیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ہاں البتہ چہرے کے رنگ یا بولی جانے والی زبان سے پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ فلاں شخص امریکی ہے یا فلاں شخص پاکستانی۔ ( معروف ادیب و صحافی ابراہیم جلیس کی کتاب "اُوپر شیروانی اندر پریشانی" سے اقتباس )