یہ ہرن جس کی تصویر آپ دیکھ رہے ہیں یہ حقیقی تصویر ہے… اس کے سینگ بڑے ، خوبصورت اور مضبوط تھے — فخر کی علامت تھے! لیکن ایک دن انہی سینگوں نے اسے برباد کر دیا۔ سینگ لوہےکی تار وں میں پھنس گئے، ہرن چھٹپٹاتا رہا، مگر نکل نہ سکا… تڑپ تڑپ کر مر گیا! اور درندوں نے جہاں تک پہنچ سکے، اس کے گوشت کو نوچ ڈالا۔ جو چیز ہماری طاقت ہے ، اگر اس پر غرور آ جائے تو وہی چیز ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔ سینگ بچاؤ کے لیے تھے ، مگر غرور نے انہیں موت کا ذریعہ بنا دیا۔ اس لیے دُنیا میں اپنی ظاہری طاقت جوکہ اللّٰه کی دی ہوئی نعمت ہے اس پرمغرور نہیں ہونا چاہیئے بلکہ شُکر ادا کرنا چاہیے ورنہ دُنیا میں بھی ذلت اور آخرت میں بھی ذلت اُٹھانی پڑے گی ۔ *حدیثِ نبوی ﷺ ہے:* *"جو شخص ذرہ برابر بھی تکبر کرے گا ، وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔"* *(صحیح مسلم)* عاجزی اختیار کرو ، فخر نہیں… کیونکہ جو جُھکتا ہے ، وہ بچ جاتا ہے… اور جو اکڑتا ہے ، وہ پھنس کر ختم ہو جاتا ہے! اللہ تعالی ہمیں مصیبتوں، تکلیفوں پریشانیوں ،پر صبر اور نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے،آمین

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت تھانوی کا ایک واقعہ

حضرت تھانوی کا ایک واقعہ

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے اپنے سارے مریدین اور متعلقین کو یہ ہدایت تھی کہ جب کبھی ریلوے میں سفر کرو، اور تمہارا سامان اس مقدار سے زائد ہو جتنا ریلوے نے تمہیں مفت لیجانے کی اجازت دی ہے، تو اس صورت میں اپنے سامان کا وزن کراؤ اور زائد سامان کا کرایہ ادا کرو، پھر سفر کرو۔ خود حضرت والا کا اپنا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ ریلوے میں سفر کے ارادے سے اسٹیشن پہنچے، گاڑی کے آنے کا وقت قریب تھا، آپ اپنا سامان لے کر اس دفتر میں پہنچے جہاں پر سامان کا وزن کرایا جاتا تھا اور جاکر لائن میں لگ گئے۔ اتفاق سے گاڑی میں ساتھ جانے والا گارڈ وہاں آگیا اور حضرت والا کو دیکھ کر پہچان لیا، اور پوچھا کہ حضرت آپ یہاں کیسے کھڑے ہیں؟ حضرت نے فرمایا کہ میں سامان کا وزن کرانے آیا ہوں۔ گارڈ نے کہا کہ آپ کو سامان کا وزن کرانے کی ضرورت نہیں، آپ کے لئے کوئی مسئلہ نہیں، میں آپ کے ساتھ گاڑی میں جا رہا ہوں، آپ کو زائد سامان کا کرایہ دینے کی ضرورت نہیں۔ حضرت نے پوچھا کہ تم میرے ساتھ کہاں تک جاؤ گے ؟ گارڈ نے کہا کہ میں فلاں اسٹیشن تک جاؤں گا۔ حضرت نے پوچھا کہ اس اسٹیشن کے بعد کیا ہوگا؟ گارڈ نے کہا کہ اس اسٹیشن پر دوسرا گارڈ آئے گا، میں اس کو بتادوں گا کہ یہ حضرت کا سامان ہے، اس کے بارے میں کچھ پوچھ گچھ مت کرنا۔ حضرت نے پوچھا کہ وہ گارڈ میرے ساتھ کہاں تک جائے گا؟ گارڈ نے کہا کہ وہ تو اور آگے جائے گا، اس سے پہلے ہی آپ کا اسٹیشن آجائے گا۔ حضرت نے فرمایا کہ میں تو اور آگے جاؤں گا یعنی آخرت کی طرف جاؤں گا اور اپنی قبر میں جاؤں گا، وہاں پر کونسا گارڈ میرے ساتھ جائے گا؟ جب وہاں آخرت میں مجھ سے سوال ہوگا کہ ایک سرکاری گاڑی میں سامان کا کرایہ ادا کئے بغیر جو سفر کیا اور جو چوری کی اس کا حساب دو تو وہاں پر کونسا گارڈ میری مدد کرے گا؟ ____________📝📝____________ کتاب : معاملات صاف رکھیں ۔ صفحہ نمبر: ۱۱، ۱۲ مصنف : مفتی محمد تقی عثمانی صاحب انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ