کتنی ہی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ڈوبتی کشتی کنارے سے جا لگتی ہے۔۔۔ دم توڑتے مریض صحت یاب ہوجاتے ہیں۔۔۔ ممکنہ حادثات سے انسان بال بال بچ جاتا ہے۔۔۔ ہر طرف اندھیرا چھاجانے کے بعد امید کا کوئی ایک جگنو چمکتا ہے اور رفتہ رفتہ ہر طرف روشنی پھیل جاتی ہے۔۔۔ کبھی مسلسل نقصان ہوتے ہوتے خلاف توقع فائدے ہونے لگتے ہیں۔۔۔ ایسے مواقع پر ہمارا عمومی رویہ یہ ہوتا ہے کہ "یہ محض اتفاق ہوگیا" "فلاں نے میری مدد کردی" "وہ تو عین موقع پر میں نے یوں کیا اور یوں کیا اگر میں یہ نہ کرتا تو مسئلہ ہوجاتا" یعنی حیران کردینے والی کامیابی اور نئے پیدا ہونے والے مواقع نیز جان لیوا حادثات سے بچ جانے کو ہم اتفاق اور اپنا کمال سمجھ کر گزر جاتے ہیں۔۔۔ کاش ہم لمحہ بھر توقف کر کے یہ سوچیں کہ یہ سب ہماری غیر موجودگی میں ہمارے لیے کی جانے والی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔۔۔ ہمارے والدین، مرشد، دوست احباب کی دعائیں۔۔۔ جو ہمارے لیے رب کریم کی بارگاہ میں خیر و عافیت کے سوال کرتے ہیں۔۔۔ یہ محض رب کا فضل ہوتا ہے کہ زندگی کی گاڑی مصیبت کے گھڑے میں گرتے گرتے عافیت کی شاہراہ پر آجاتی ہے۔۔۔ اگر اس زاویہ نظر سے ہم اپنے روز و شب کا جائزہ لیں تو قدم قدم پر رب تعالی کا شکر ادا کرنے کی توفیق نصیب ہوگی۔۔۔ کسی نے خوب کہا کہ جب تم پر کوئی احسان کرے تو اپنے محسن کا شکر بعد میں ادا کرو پہلے رب تعالی کا شکر ادا کرو کہ اس نے اس شخص کے دل میں تم پر احسان کرنے کا خیال پیدا کیا اور اسے توفیق دی۔۔۔ لیکن ہم اپنی تنگ نظری کے سبب اللہ کریم کی بہت سی نعمتوں اور احسانات کو سمجھ نہیں پاتے اور ملنے والی آسانیوں کو اپنی طرف اور لوگوں کی طرف منسوب کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔۔۔ اللہ کریم ہمیں اپنا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق نصیب کرے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

مکھی کیوں پیدا کی گئی؟

مکھی کیوں پیدا کی گئی؟

خراسان کا بادشاہ شکار کھیل کر واپس آنے کے بعد تخت پر بیٹھا تھا٬ تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں٬ بادشاہ کے پاس ایک غلام ہاتھ باندھے مؤدب سے کھڑا تھا٬ بادشاہ کو سخت نیند آئی ہوئی تھی مگر جب بھی اس کی آنکھیں بند ہوتیں تو ایک مکھی آ کر اس کی ناک پر بیٹھ جاتی تھی اور نیند اور بے خیالی کی وجہ سے بادشاہ غصے سے مکھی کو مارنے کی کوشش کرتا لیکن اس کا ہاتھ اپنے ہی چہرے پر پڑتا تھا اور وہ ہڑبڑا کر جاگ جاتا تھا۔ جب دو تین دفعہ ایسا ہواتو بادشاہ نے غلام سے پوچھا‘ تمہیں پتہ ہےکہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے‘ اس کی پیدائش میں اللہ کی کیا حکمت پوشیدہ ہے؟ غلام نے بادشاہ کا یہ سوال سنا تو اس نے ایسا جواب دیا جو سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے- غلام نے جواب دیا‘ بادشاہ سلامت ! "اللہ نے مکھی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ بادشاہوں اور سلطانوں کو یہ احساس ہوتا رہے کہ وہ خود کو کہیں خدا نہ سمجھ بیٹھیں کیوں کہ وہ خود سے ایک مکھی کو قابو نہیں کر سکتے.۔۔!! بادشاہ کو اس غلام کی بات اتنی پسند آئی کہ اس نے اسے آزاد کر کے اپنا مشیر مقرر کر دیا۔