سائنس کی دلچسپ حقیقت — مرغی پہلے آئی یا انڈا؟ صدیوں پرانا یہ سوال کہ مرغی پہلے آئی یا انڈا؟ ہمیشہ سے انسان کو حیران کرتا آیا ہے، مگر حالیہ سائنسی تحقیق نے اس راز کے پردے کچھ حد تک اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انڈے کے چھلکے میں موجود ایک خاص پروٹین OC-17 صرف مرغی کے جسم میں بنتا ہے۔ اس پروٹین کے بغیر انڈے کا چھلکا بن ہی نہیں سکتا، یعنی فطرت کے اس نظام میں انڈے کی تشکیل کے لیے مرغی کا ہونا ضروری ہے۔ اس دریافت نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، لیکن سادہ لفظوں میں بات یہی ہے کہ قدرت کا پہلا قدم مرغی تھی، جس نے انڈا دیا، اور پھر نسل آگے بڑھی۔ یہ حقیقت صرف سائنسی بنیاد پر دلچسپ نہیں، بلکہ قدرت کے عظیم اور بامقصد نظام کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے — ہر چیز ایک ترتیب، ایک حکمت اور ایک مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ وجود میں آتی ہے۔ آج سائنس بھی وہی بات کہہ رہی ہے جو فطرت برسوں سے ہمیں دکھا رہی ہے: پیدائش کے عمل میں اتفاق نہیں، ایک منصوبہ بندی ہے۔ اس حیران کن تحقیق نے نہ صرف ایک پرانے سوال کا جواب دیا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ دنیا میں موجود ہر چیز کے پیچھے ایک نہایت باریک اور منظم نظام کار فرما ہے، جسے انسان جتنا کھوجتا ہے، اتنا ہی حیران رہ جاتا ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک شاہین اور بادشاہ کی سبق آموز کہانی

ایک شاہین اور بادشاہ کی سبق آموز کہانی

ایک بادشاہ کو کسی نے دو شاہین کے بچّے تحفے میں پیش کئے۔ بادشاہ نے دونوں کو اپنی شاہینوں کی تربیت کرنے والوں کے سپرد کر دیا تاکہ وہ اُن دونوں کو تربیت دیں کہ وہ شکار پر لے جائیں جا سکیں۔ ایک مہینے کے بعد وہ ملازم بادشاہ کے پاس حاضر ہوا اور کہا کہ ایک شاہین تو مکمّل تربیت یافتہ ہو چکا ہے اور شکار کے لئے بالکل تیّار ہے لیکن دوسرے کے ساتہ پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ پہلے دن سے ایک ٹہنی پر بیٹہا ہے اور کوششوں کے باوجود ہلنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس بات سے بادشاہ کا تجسّس بڑہا اور اس نے درباری حکیموں اور جانوروں اور پرندوں کے ماہرین سے کہا کہ پتہ لگائیں آخر وجہ کیا ہے؟ وہ بھی کوشش کر کے دیکہھ چکے لیکن کوئی نتیجہ معلوم نہ کر سکے۔ پھر بادشاہ نے پورے ملک میں منادی کروا دی کہ جو کوئی بھی اِس شاہین بچے کو قابلِ پرواز بنائے گا، بادشاہ سے منہ مانگا انعام پائے گا۔ اگلے دن بادشاہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جو شاہین پرواز کرنے پر آمادہ ہی نہیں تھا، شاہی باغ میں چاروں طرف اُڑ رہا ہے۔ بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ اُس شخص کو پیش کیا جائے جس نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ بادشاہ کے کارندے ایک دیہاتی کو لے کر بادشاہ کے پاس لائے کہ یہ کمال اِس شخص کا ہے۔ بادشاہ نے اُس شخص سے پوچہا؛ “تم آخر کس طرح وہ کام کر گئے جو میرے دربار کے ماہر حکیم اور پرندوں کو سُدھانے والے نہ کر سکے، کیا تمہارے پاس کوئی جادو ہے؟” وہ شخص گویا ہوا؛ “بادشاہ سلامت، میں نے صرف اِتنا کیا کہ جس ٹہنی پر یہ بیٹھا ہوا تھا وہ کاٹ دی اور زمین کی طرف گرتے وقت جبلّی طور پر اِس کے پر کُھل کر پھڑپھڑائے اور اسے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ اس میں طاقتِ پرواز ہے۔” بعض دفعہ ہمیں بھی اپنی طاقت کا اندازہ کچھ ہونے سے ہوتا ہے۔۔ اس لیے ازمائش سے ڈرنا نہیں بلکہ مقابلہ کرنا چاہیے۔۔۔ ✅♻️اردو سچی کہانیاں ♻️✅