دینی حکمت کا تقاضا ہم مسلمانوں کو اس حقیقت کو اب سمجھ لینا چاہیے کہ اگر سو فیصد مسلمان تہجد گزار ہو جائیں اور ہر مسلمان کے ہاتھ میں تسبیح آجائے اور ہر مسلمان اشراق اور چاشت کا پابند ہو جائے لیکن اگر اکثریت اس سے نامانوس ہے، اکثریت اپنے دل میں اس کی طرف سے زہر لیے ہوئے بیٹھی ہے اور سینہ میں انگارے سلگ رہے ہیں تو خدا نخواستہ جس وقت اس ملک میں کوئی بھونچال آئے گا تو ہم اپنی ان تمام عبادتوں، نوافل کے ساتھ بے دخل ہو جائیں گے، اس وقت نوافل تو نوافل، جو بنیادی چیزیں ہیں وہ بھی نہیں رہیں گی، اس لیے دینی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس آبادی کو اپنے سے مانوس بنائیں، اسلام کا پیغام گھر گھر پہنچائیں، ان کو بتائیں کہ اسلام کیا ہے؟ ( تحفہ دکن : ۸۵) مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ (کتاب : ماہنامہ پیام عرفات رائے بریلی۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت ابن عمر رضي اللہ عنہ کا ایک واقعہ

حضرت ابن عمر رضي اللہ عنہ کا ایک واقعہ

حضرت عبداللہ ابن عمر یا ایک دفعہ سفر پر جا رہے تھے، غالبا حج یا عمرے کا سفر تھا، صاحب حیثیت عربوں کی عادت کے مطابق آپ سفر پر جاتے ہوئے سواری کے اونٹ کے ساتھ ایک خچر نما گدھا بھی لے گئے (عربوں کے گدھے ہمارے ہاں کے گدھوں کی طرح نہیں ہوتے بلکہ ہمارے ہاں کے خچروں کی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں ) ۔ ہوتا یہ تھا کہ دوران سفر جب اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تو کچھ دیر کے لئے گدھے پر سوار ہو جاتے۔ اس پر پالان بھی تھا راستہ میں ایک غیر معروف مقام پر ایک دیہاتی بدو سامنے آیا ، آپ فوراً اترے اور بڑی عزت سے پیش آئے پھر اپنی پگڑی اٹھائی اور دیہاتی کے سر پر رکھی اور وہ گدھا اس کے سپرد کر دیا، حضرت ابن عمرؓ کے رفقاء اور شاگردوں نے کہا کہ آپ نے ایک دیہاتی کو پوری سواری دے دی ، عمامہ دے دیا ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ صاحب میرے والد کے دوست ہیں اور پھر وہ حدیث پڑھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ والد کے ساتھ ایک نیکی یہ بھی ہے کہ ان کے دوستوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ اور اچھے برتاؤ کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ اس کے لئے دعا کرے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب انسان دوسرے کے لئے دعا کرتا ہے تو اللہ کی طرف سے فرشتہ وہاں کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے : ” ولک مثل ذالک“۔ ہاں تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو۔ معصوم فرشتہ جب دعا کرے تو اس کی قبولیت یقینی ہے۔ (کتاب: ماہنامہ فلاح دارین کراچی(نومبر) صفحہ نمبر: ۲۱ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)