خدارا! ذرا سوچئے۔ یہ اللہ کے حضور حاضری ہے یا کسی کام کو نمٹانے کی جلدی؟ دل تڑپ اٹھتا ہے یہ دیکھ کر کہ جس نماز کو "مومن کی معراج" کہا گیا، اسے چند لمحوں میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ نہ قیام میں سکون، نہ رکوع میں ٹھہراؤ، نہ سجدے میں گریہ اور قرآن کا تو بس الفاظ دوڑائے اور نماز پوری! کیا اللہ کے دربار میں بھی یہی بے ادبی چلے گی؟ قرآنِ کریم کو اس رفتار سے پڑھنا کہ حروف نگل لئے جائیں، تجوید پامال ہو اور معانی کا پاس نہ رہے۔ یہ عبادت نہیں، یہ قرآن کے ساتھ زیادتی ہے۔ اگر تراویح بوجھ لگتی ہے تو ایسی تراویح سے بہتر ہے چھورڈیں، مگر عبادت کا گلا نہ گھونٹیں۔ اللہ کو ہماری رفتار نہیں چاہئے بلکہ ہمارا جھکا ہوا دل چاہئے۔ رکوع و سجدہ صرف جسم کا نہیں، دل کا بھی ہونا چاہیے۔ ورنہ ڈر ہے کہ ہم سمجھیں نماز ادا ہوگئی اور حقیقت میں کچھ بھی ادا نہ ہوا ہو۔ خدارا! رمضان کو رسم نہ بنائیں۔ نماز کو مقابلہ نہ بنائیں۔ قرآن کو دوڑ نہ بنائیں۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہونا سعادت ہے۔ اسے سنجیدگی، ادب اور خوفِ خدا کے ساتھ ادا کیجیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جلدی میں ہم عبادت نہیں، اپنی آخرت ختم کر بیٹھیں۔ اللہ ہمیں نماز کی قدر، قرآن کا ادب اور عبادت کا شعور عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

پیدل چلتے ہوئے مطالعہ

پیدل چلتے ہوئے مطالعہ

اسلاف کے ہاں شوقِ مطالعہ اور اہمیتِ وقت کا یہ عالم تھا کہ پیدل چلتے ہوئے بھی کتاب کا مطالعہ جاری رہتا۔ ابن الآبنوسی کہتے ہیں کہ علامہ خطیب بغدادیؒ پیدل چل رہے ہوتے تو ہاتھ میں کتاب لیے اس کا مطالعہ کر رہے ہوتے۔ (سیر اعلام النبلاء، ١٨: ٢٨١) نحو کے ایک بے بدل عالم علامہ احمد بن یحیٰ جو ثعلب کے نام سے مشہور ہیں، ان کو تو یہ شوق بہت ہی مہنگا پڑا۔ یہ مطالعے کے رسیا تھے اور ثقلِ سماعت کا شکار تھے، اس لیے اونچا سنائی دیتا تھا۔ ایک مرتبہ جمعے کے دن عصر پڑھ کر جامع مسجد سے نکلے تو حسبِ معمول کتاب کھولی اور پیدل چلتے ہوئے پڑھنے میں مگن ہو گئے۔ راستے میں گھوڑے نے دولتی جھاڑ دی؛ پاس ہی ایک گہرا کھڈا تھا، یہ اس میں جا گرے۔ ان کو دماغ پہ چوٹ آئی؛ اسی حال میں گھر لے جایا گیا مگر اگلے روز یہ عاشق کتب انتقال کر گئے! (ابن خلکان، وفیات الاعیان، ١: ١٠٤) [انتخاب و ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]