*🌻سبق آموز مزاح* ایک وکیل نے رمضان کے دنوں میں عطا الله شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ سے مذاق کرتے ہوۓ پوچھا کہ حضرت ، علماء تعبیر و تاولیل میں بڑے ماہر ہوتے ہیں کوئی ایسا نسخہ بتائیں کہ انسان کھاتا پیتا رہے اور روزہ بھی نہ ٹوٹے ۔ حضرت نے فرمایا یہ تو بہت آسان ہے! ایک شخص کو مقرر کردو جو تمہیں صبح سے شام تک جوتے مارتا رہے اور تم جوتے کھاتے رہو اور غصے کو پیتے جاؤ اس طرح کھاتے پیتے رہو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ یہ ایک *دلچسپ* اور سبق آموز واقعہ ہے جو حضرت عطا اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی حاضر جوابی کو ظاہر کرتا ہے۔ جب ایک وکیل نے مذاق میں روزہ نہ ٹوٹنے کا نسخہ پوچھا، تو شاہ جی نے جوتے مارنے اور غصہ پینے کا طنزیہ مشورہ دیا، جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ روزہ محض کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں، بلکہ گناہوں اور برے اعمال سے بچنے کا نام ہے۔ جوتے کھاتے رہو: یعنی اپنے نفس کو قابو میں رکھنے کے لیے تکلیف اٹھاؤ۔ غصہ پیتے جاؤ: غصے پر قابو پانا روزہ دار کے لیے ایک بڑی نیکی ہے۔ یہ واقعہ رمضان کی حقیقی *روح* کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ روزہ صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں، بلکہ نفس پر قابو پانے کا نام ہے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

خُدا کی کبریائی:

خُدا کی کبریائی:

​پاکیزہ ہے وہ ذات جس نے سب مخلوقات کو فناء کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے ـ اس حیثیت سے بادشاہ اور غلام سب اس کے نزدیک برابر ہوئے ـ صرف خود کو بقاء کے ساتھ منفرد کیا اور قدامت میں بھی اپنے آپ کو واحد رکھا ـ اپنی قدرتوں کو دنیا وغیرہ میں جیسے چاہا استعمال فرمایا ـ سب کی حاجت مندی اس کے سامنے ظاہر ہوئی چاہے کوئی نیک تھا یا بد،گمراہ تھا یا ہدایت پر ـ يَسْاَلُـهٝ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِىْ شَاْنٍ (سورہ الرحمن ۲۹) ترجمہ: آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی سے (اپنی حاجتیں) مانگتے ہیں، وہ ہر روز کسی شان میں ہے۔ وہ بڑا فیاض ہے' اس کی عطاء نے سب کو ڈھانپ رکھا ہے' یہ گناہگار کہاں بھاگ سکے گا؟ گم گشتہ راہ کی تلافی کون کرے گا؟ کتنی بار ضامن سے قضاء مقابلہ کرچکی ہے ـ کتنے مردود لوگوں کو اپنی بارگاہ میں حاضری کی توفیق بخشی ہے ـ انسانوں کی قسمت میں گناہگاروں کو کتنا غافل کردیا ہے'انہی میں سے کوئی بدبخت بنا کوئی نیک بخت ـ إحدى وسِتُّون لو مرَّت علی حجرٍ لکان من حُکمھا أن یَخلَقَ الحجرُ تُــؤمِـلُ النّــفـسُ آمــالاً لـتبلُـغَـھَا کأنـھـا لا تــری مـا یــصنَـعُ الـقدر ترجمہ : (❶) اگر اکسٹھ برس کسی پتھر کو بھی گزر جائیں تو وہ بھی بوسیدہ پتھر شمار ہوگا ـ (❷) نفس بہت سی امیدوں تک پہنچنے کی امید میں ہے،گویا کہ اس کو یہ خبر نہیں کہ تقدیر کیا کرنے والی ہےـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب  :  آنسوؤں کا سمندر           (صفحہ نمبر ۱۹۳)  مصنف :  امام ابن جوزی رح ترجمہ  :  مولانا مفتی امداد اللہ انور صاحب