اگر زندگی میں کبھی شریکِ حیات چننے کا موقع ملے تو صرف چہرے کی چمک دمک کو معیار نہ بنانا۔ حسن آنکھوں کو بھا لیتا ہے، مگر مزاج اور کردار ہی زندگی نبھاتے ہیں۔ ایسے شخص کو ترجیح دینا جو سمجھ دار ہو، جسے صحیح اور غلط کی پہچان ہو۔ جو یہ جانتا ہو کہ آپ کو کن باتوں سے خوشی ملتی ہے اور کن چیزوں سے دل دکھتا ہے، اور وہ اپنی عادتوں کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کرے۔ وہ جو دین کو صرف لفظوں میں نہیں بلکہ عمل میں بھی زندہ رکھتا ہو۔ جو نماز، قرآن اور سنت کی طرف خود بھی سنجیدہ ہو اور نرمی کے ساتھ آپ کو بھی اس راستے کی یاد دہانی کراتا رہے۔ وہ جو تعلق کی قدر جانتا ہو، نگاہ اور دل دونوں کی حفاظت کرتا ہو۔ جس کا کردار مضبوط ہو، جسے لوگوں کی باتیں بہکا نہ سکیں، اور جو وفاداری کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھے۔ اصل بات یہی ہے کہ اگر کبھی فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہو تو ظاہری چیزوں سے آگے دیکھنا۔ کیونکہ اختیار ہو تو سوچ سمجھ کر چناؤ کیا جاتا ہے، اور جب اختیار نہ ہو تو انسان اکثر دل میں بہت کچھ لے کر بھی خالی رہ جاتا ہے



