ملفوظ: خدا تک پہنچنے کا آسان راستہ *ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ* *خدا تک پہنچنے کا آسان راستہ* ارشاد فرمایا کہ ہم کو اپنی ناقص حالت پر قناعت نہ کرنی چاہیے بلکہ کمالِ دین حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس کا طریقہ یہ ہے کہ اعمال کو کامل کیا جائے، فرائض و واجبات کے بجالانے میں کوتاہی نہ ہو، محرمات کا ارتکاب نہ ہو اور اعمال کے کامل کرنے میں جو نفس کی مزاحمت مانع ہوتی ہے اس کا علاج کاملین کی صحبت اختیار کرنا ہے۔ ان کے پاس جانا چاہیے اور جا نہ سکے تو ان سے خط و کتابت کا تعلق رکھا جائے جس میں فضول قصے نہ لکھیں بلکہ اپنے کو مریض اور ان کو طبیب سمجھ کر اپنے حالات سے ان کو اطلاع کرتے رہیں۔ پھر اس کے بعد جو کچھ وہ بتلاویں اس پر عمل کریں اور ان کے احکام کا اتباع کریں۔ بس یہ راستہ ہے خدا تک پہنچنے کا جس سے زیادہ آسان راستہ کوئی نہیں بتلا سکتا۔ (الكمال في الدين للرجال، مواعظِ اشرفیہ، جلد۱، صفحہ ۲۶۰)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز :

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز :

امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ ہارون رشیدؒ کے زمانے میں پورے عالم اسلام کے قاضی القضاۃ تھے، ایک بار ان کے پاس خلیفہ ہارون رشیدؒ اور ایک نصرانی کا مقدمہ آیا، امام نے فیصلہ نصرانی کے حق میں کیا، اس طرح کے درخشاں واقعات تاریخ اسلام کے ورک ورک پر بکھرے پڑے ہیں، لوگ اس کو "دور ملوکیت" کہتے ہیں وہ کس قدر مبارک "دور ملوکیت" تھا ایک طاقتور بادشاہ اور خلیفہ اپنی رعایا میں سے ایک غیر مسلم کے ساتھ عدالت کے کٹہرے میں فریق بن کر حاضر ہیں، امام ابو یوسفؒ کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو فرمانے لگے : اے اللہ ! تجھے معلوم ہے کہ میں نے اپنے زمانئہ قضا میں مقدمات کے فیصلے میں کسی بھی فریق کی جانب داری نہیں کی، حتیٰ کہ دل میں کسی ایک فریق کی طرف میلان بھی نہیں ہوا، سوائے نصرانی اور ہارون رشیدؒ کے مقدمے کے کہ اس میں دل کا رجحان اور تمنا یہ تھی کہ حق ہارون رشیدؒ کے ساتھ ہو اور فیصلہ حق کے مطابق اسی کے حق میں ہو لیکن فیصلہ دلائل سننے کے بعد ہارون رشیدؒ کے خلاف کیا"ـ یہ فرماکر امام ابو یوسف رحمت اللہ علیہ رونے لگے اور اس قدر روئے کہ دل بھر آیا ـ ( الدر المختار : ج ۳۱۳،والقضاء فی الاسلام لعارف النکدی ص ۲۰) _____📝📝📝_____ کتاب : کتابوں کی درس گاہ میں صفحہ نمبر : ٥٧ مصنف : ابن الحسن عباسی انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔